کہانی کار اور تصاویر : جبار مرزا 

یہ بھی میری ایک صحافتی یاد ھے ، برسوں پہلے رانی کو انار کا ایک پودا پسند آگیا اور گلابی رنگ کا امرود میری پسند تھا ، رانی کی خواہش تھی اپنا گھر بنائیں گے تو یہ دونوں پودے وہاں لگائیں گے لہذا 19/20 برس سے وہ پودے گملوں میں ہی لگے رہے۔

یوں ہم ہر سال بونسائی نظرئیے کے تحت دونوں پودوں کی گملوں میں ہی تراش خراش کر دیتے ، وہ بساط کے مطابق پھل بھی دیتے رہے ، وقت گزرتا گیا یوں پودے مٹی کے گملوں میں اور ہم دنیا کے گملے میں بوڑھے ہوگئےمگر گھر پھر بھی نہ بن سکا ، ایسے میں 17 جنوری 2021ء آن پہنچا، رانی عدم سدھار گئی وہ اپنے اصلی گھر چلی گئی۔

ہم نے بھی یہ موقع غنیمت جانا اور رانی کے پہلو میں اپنے گھر کا پلاٹ بھی مختص کرا لیا اور اپنی اپنی پسند کے وہ دونوں پودے سرہانے لگا کر رانی کا خواب پورا کر دیا ، وعدہ نبھا دیا، ہماری ایک غزل کا شعر ھے کہ

وفائے وعدہ کا سکہ یہاں نہیں چلتا

وگرنہ میں بھی زمانے میں معتبر ہوتا

پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کے بعد خفیہ والوں نے ہمیں کھل کے صحافت نہ کرنے دی سیف ہاؤسز میں طلب کیا جاتا رہا ہوں ، باوردی دباؤ بڑھاتے رہے کہ ، ، ثمر مبارک مند کو ہیرو بناؤ ،،ڈاکٹر عبدالقدیر خان پر مت لکھو ، میں نے بتیرا سمجھایا کہ میں ہیرو نہیں بناتا ہیرو پیدائشی ہوتا ھے ، ثمر مند کبھی ہیرو نہیں بن سکے گا ، مگر ہماری ایک نہ سنی گئی معاشی استحصال ہوا ، روزنامے کی ایڈیٹر شپ سے ہٹایا گیا ، جب ہم ان سے نہ خریدے جا سکے تو انہوں نے ایک سابقہ میجر کو فرضی گاہک بنا کے اخبار خرید لیا ، ساڑھے تین چار سو کا عملہ کام کرتا رہا مگر ہم ہٹا دئیے گئے ۔

اور جب اسلام آباد انتظامیہ نے سیکٹر G/14 میں صحافیوں کو پلاٹ دئیے تو ہم سے ایڈوانس کے طور سے ایڈیٹر کی کیٹگری ون کے لئے دو سال تک درخواست کے ساتھ ڈیڑھ لاکھ روپے اپنے پاس رکھنے کے بعد ، یہ کہہ کے واپس کر دئیے کہ ، آپ کے لئے ہدایات نہیں ملیں ، حالانکہ میرے ساتھ کام کرنے والے چپڑاسیوں ، ڈرائوروں اور گن مینوں کو پلاٹ الاٹ ہوئے ۔

ہم نے انہی دنوں وقت ٹی وی پر جنرل پرویز مشرف کی صدارت کے دنوں میں صرف اتنا ہی کہا تھا کہ ،، ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور جنرل پرویز مشرف ان دونوں کو راولپنڈی راجہ بازار کے فوارہ چوک میں لے جائیں اور دیکھیں کہ قوم ہاتھ کس کے چومے گی اور سنگسار کسے کرے گی ،فیصلہ ہو جائیگا!

یہی وجہ تھی کہ جب راولپنڈی میں میڈیا ٹاؤن الاٹ ہونے لگا تو پرویز الہی نے ہمارے علاوہ سب کو پلاٹ دے دئیے، آجکل آزاد کشمیر کابینہ میں جو وزیر اطلاعات ھے ، مشتاق منہاس وہ پریس کلب میں ہمیں لائن میں لگ کے ووٹ نہیں ڈالنے دیا کرتا تھا کہ آپ جیسا سینئیر صحافی کیوں لائن میں لگے اور یوں ہم فوری فوری ووٹ ڈال آیا کرتے تھے لیکن میڈیا ٹاؤن کے حوالے سے مشتاق منہاس نے بھی اپنی بے بسی کا اظہار کر دیا ۔

نواز رضا نے مشورہ دیا کہ ،، نذیر ناجی اور رؤف کلاسرہ ہائی کورٹ چلے گئے ہیں آپ بھی شامل ہو جائیں ،، میں نے کہا اپیلیں سننے والا جسٹس میرے دوست کا بیٹا ھے ، میں دوست نوازی نہیں اپنے استحقاق کا طالب ہوں،

بہر طور گزشتہ دنوں رانی کے وصال کے پانچ چھ روز بعد نواز رضا تعزیت کے لئے آیا تو گیٹ سے گھر میں اندر قدم رکھتے ہی کہا کہ ،، یہ وہی پلاٹ ھے جو تمہیں شاعروں ادیبوں کے کوٹے میں ملا تھا ،، ؟ میں نے کہا تعزیت کے لئے آئے ہو ، خیال کرو مذید دل دکھانے والی باتیں نہ کرو ، مجھے کبھی کوئی پلاٹ نہیں ملا اور نہ ہی پاکستان میں میرا کہیں کوئی اپنا گھر ھے۔