تحریر: نبیل احمد ( کمشنرریٹائرڈ)

تا مرد سخن نگفتہ باشد

عیب و ہنرش نہفتہ باشد

سعدی شیرازی کہتے ہیں جب تک انسان کلام نہیں کرتا اس کے عیب و ہنر پوشیدہ رہتے ہیں ، آج ہم ایک ایسے شخص سے تعارف حاصل کریں گے جو نظم و نثر کے دونوں میدانوں میں اپنے جوہر دکھاتا ہے لیکن اس نشست میں ہم صرف اس کے منظوم کلام ہی سے اس کا نقش ابھارنے کی کوشش کریں گے اور اس کا حسنِ کلام دیکھیں گے ۔

یہ ہیں ہمارے نوجوان افسانہ نگار اور انقلابی شاعر محمد افضل ضیائی جن کا کہنا ہے

ہونے کو کیا ہوتا نہیں زمانے میں

ایک اس شخص کو میرا نہیں ہونا آیا

امیر مینائی نے کہا تھا ع

ساری دنیا کے ہیں وہ میرے سوا

میں نے دنیا چھوڑ دی جن کے لئے

مومن خاں مومن یہ خیال یوں باندھتے ہیں ع

تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے

ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

انسانی نفسیات اور خواہشات ہر کہیں یکساں ہیں ، کہا جاتا ہے بڑے لوگ ایک جیسا سوچتے ہیں اور یہ بات شاعروں پر کافی حد تک صادق آتی ہے کہ ان کے فکرو خیال کی پرواز اور تعددِ موج ۔۔۔ فریکوئنسی ۔۔۔ کا تال میل کئ نقاط پر برابر بیٹھتا ہے جس کا اظہار ان کے اشعار کی معنویت کی ہم آمیزی و یک رنگی سے ہوتا رہتا ہے ، سخن کدے میں جس کی مثالوں کے انبار لگائے جا سکتے ہیں ، اوپر کے اشعار اس ضمن میں ایک مثال ہیں ۔

یہ تاریخی حقیقت یاد رکھنی چاہیے کہ ڈیڑھ کروڑ کشمیری بھارت کی رعایا کے طور پر زندہ رہنے کے لئے تیار نہیں ۔ آزادی کی راہ میں ہم قربانی و ایثار کے الاؤ خون سے روشن رکھے ہوئے ہیں ، شہادت کے میدان اٹ گئے ہیں ، لاشوں کے ڈھیر صدا دینے لگے ہیں ، طوق و سلاسل کا بازار گرم ہے ، قید خانوں کے پٹ کھل گئے ہیں اور اسیران حریت کی ڈار لگ گئ ہے ، ہم جانتے ہیں امتحان کی اس بازی گاہ میں بہت کچھ کھونا پڑتا ہے ، لیکن جو چیزیں عشق کی راہ میں کھوئی جائیں ان پر معناً افسوس تو ہو سکتا ہے ، ہراس نہیں ، کیونکہ ہراس یقین و آگہی کی موت ہے ، شاعر بھی قافلہ حریت میں شامل ہے اور اس کی زبان کی گرہ یوں کھلتی ہے ع

ظلم اور جبر نے اس دیس کو محصور کیا

اس کا منظر جو لہو رنگ تھا مستور کیا

مرے صیاد کو ہے حلقہ زنجیر کی فکر

میں نے زنداں سے رہائی کو ہے منشور کیا

اور یہ پکار ہر کشمیری کا منشور ہو گئ ہے ، عوام ذہنی طور پر آزادی کی سرحد پر پہنچ چکے ہیں ، آزادی کا جذبہ پہلے سلگتا پھر بھڑکتا ہے ، اب اس کا بجھنا ناممکن ہو گیا ہے ، برہان وانی نے قابض فوج پر ایسی چوٹ لگائی ہے جس سے وہ تلملا اٹھی ہے اور اس کے دفاعی حصار میں شگاف پڑ گیا ہے ۔

شاعر حضرات عموماً مے خانہ کی دھند میں کھو جاتے ہیں لیکن اِس رخ سے ضیائی زاھدِ خشک ہے ، اپنے معاصر طبقے میں اس کا کلام بڑے اعتبار سے دیکھا جائے گا ، اس کےاشعار اس قدر لطیف اورنازک احساس کے حامل ہیں کہ شاعر اور شعر میں فاصلہ کا اندازہ نہیں ہوتا ، کشمیر کی موجودہ کربناک صورت حال کی جو تصویر کشی کی ہے ملاحظہ کیجئے ع

تم اپنے تخت کی میں اپنے گھر کی بات کروں 

لٹے ہیں سارے شہر کس شہر کی بات کروں 

موت کا رقص ہے آہ و فغاں ہے شعلے ہیں 

میں قتل گاہ میں برپا حشر کی بات کروں

زندگی خواب کہ جس کی کوئی تعبیر نہیں

جو ہے محروم طلوع ، اس سحر کی بات کروں

اب مادر وطن کا ہر جوان ، بچہ اور بوڑھا شوقِ شہادت میں اس کارگہِ عشق کی طرف ، شہید ملت مقبول بٹ کی راہِ استقامت پر گامزن ہے اور یہ نغمہ مسلسل ان کی سماعتوں میں گونج رہا ہے جو ان کے جذبوں کو توانا رکھے ہوئے ہے ع

ھفت افلاک میں سے ایک ستارہ لے کر 

میں تو زندہ ھوں فقط نام تمہارا لے کر 

منصفوں نے مجھے ھر دور میں پھانسی دی ھے

ایک منسوخ شہادت کا سہارا لے کر

ضیائی کا تخیل ہمالہ کی بلندیوں سے اٹھتا ہے ، صرف افلاک ہی کو نہیں چُھوتا ابنائے وطن کے دلوں کو بھی چُھوتا اور ان کی ہمت بڑھاتا ہے ، اس کا احساسِ وطنیت اور اپنی مٹی سے پیار فطری اور بے ساختہ بے ع

تمہارے ظلم کا سورج بڑے عروج پہ ھے

میری حدود میں چمکا تو ڈوب جائے گا

میں سامراج کے ہاتھوں میں بِک نہیں سکتا 

میں بِک گیا تو وہ سب کو خرید لائے گا

بہت سی اقدارِ حیات ایسی ہیں جن پروقت کی برودت زنگ نہیں لگا سکتی ، حب وطن اور غلامی سے نجات اُس کی فطرت میں ہے ، وہ بے کیف شعر نہیں کہتا ، مشقِ سخن جاری رہی تو اُس کے سخن کی تاب حیراں کرتی رہے گی ع

آئینہ سارے شہر میں نایاب ہوگیا

جلوہ گری کے شوق میں غرقاب ہو گیا

خود سے بھی کبھی مل نہ سکا حیف ہے یارو

میں آپ اپنی ذات میں خواب ہو گیا

اُس کے یہاں الفاظ کے دروبست کے ساتھ ایک غنائی عنصر بھی ایسا ملتا ہے جو شعر کے اثر کو دوبالا کر دیتا ہے ع

چاند نکلا نہ کہیں شب کو ستارے چمکے

رات نے پھر کوئی پُر درد غزل گائی ہے

اس سے پہلے تو ہوا ساتھ لئے چلتی تھی

آج خوشبو ! کہ اکیلے ہی چلی آئی ہے

محمد افضل ضیائی میاں محمد بخش کے دیس کے ادبی افق پر ابھرتا روشن ستارہ ہےجس نے طالب علم رہنما کے طورپر اپنی شناخت بنائی اور انجینئرنگ کی پیشہ ورانہ ڈگری لے کر کشمیر کی سول سروس کا حصہ ہو گیا ، اب ایک اہم کلیدی عہدے پر فائز ہے ، وہ ایک انوکھے تیور کا شاعر اور افسانہ نگار ہے جو اس تیرہ و تار دور میں اپنے فن کی جوت جگائے ہوئے ہے ، اس کا اولین شعری مجموعہ ۔۔۔ میرے خواب زنجیریں ۔۔۔ طبع ہو کر منظر عام پہ آ چکا ہے اور دوسرا مجموعہ ۔۔۔ گلاب موسم میں تم جو ملتے ۔۔۔ طباعت کے لئے تیار ہے ۔

حُلیہ ایسا کہ یونان میں ہوتا تو اسے دیکھ کر سقراط ، بقراط اور افلاطون کا گمان ہوتا ، آج بھی وہ رابندر ناتھ ٹیگور ، کارل مارکس ، لینن ، سٹالن اور ٹالسٹائی کے قبیلے کا فرد لگتا ہے ، سینے میں ایک دردمند دل دھڑکتا ہے جو دُکھے تو شعر میں ڈھل جائے ع

حریفِ جا ں پہ چلو پھر اعتبار کریں

یہ زیست شے ہی نہیں جس سے پیار کریں

ہمیں بتاؤ بِکے ہو لیا ہے مول کیا

تمہیں خریدنے کا ہم بھی کاروبار کریں

وہ خود ساز ہے اوراُن خاندانی وجاہتوں سے بہرہ مند نہیں جو دولتمندوں کی تجوریوں سے تیار ہوتی ہیں ، طبیعت میں شعروانشا کا ذوق اسے قرطاس و قلم کی طرف لے آیا ہے ، اس میدان میں اس کی پزیرائی پر حاسدوں سے زیادہ دوستوں کو رنج پہنچتا ہے ، میں جانتا ہوں ، ایک وقت میں اس کے لئے چھالے اور کانٹے یکجا ہو گئے تھے ، معاش کی درماندگی کو اُسں نے حصول علم کی راہ میں دیوار نہیں ہونے دیا ، حالات کی ویرانی کے باوجود وہ آگے بڑھا ہے ، اِن کٹھنائیوں نے اُس کی سیرت کو چمکا دیا ہے ، اب تو مشیت سے معیشت کی راہیں آسان ہو گئ ہیں ع

ایک ہم ہی نہیں زخموں کو دکھانے والے

ٹوٹ جاتے ہیں زمانے کے بھرم بھی اکثر

کچھ پجاری ہی بڑے دل کے غنی ہوتے ہیں

اور کچھ حسن کی دنیا کے صنم بھی اکثر

اس کے کلام میں اس کی بلندی کے آثار بولتے ہیں اور ترقی کی کونپلیں اپنا اظہار کرتی ہیں ، اس کے کلام میں فکر بھی ہے اور احساس بھی اگر ان کا موقع اور محل سے درست استعمال ہوجائے تو کلام افسونی جاذبیت اختیار کر لیتا ہے ع

عجیب شخص ہے بچھڑا تو بہت رویا تھا

وہ شرمسار نہیں اب مجھے بھلا کے بھی

میں مطمئن ہی نہیں اپنے آپ سے جاناں

آپ کیا لیں گے مجھے آئینہ دکھا کے بھی

میں تجھے ٹوٹ کے چاہوں یہ مجھے اذن نہیں

کہ میں نے دیکھ لئے فرق سب مٹا کے بھی

تیرا جمال تو میری نظر کا طالب تھا

ثبوت اس کا دیا آئینے سجا کے بھی

زندگی کے سفر میں دشواریوں اور کٹھنائیوں نے اُس کی راہ روکنا چاہی لیکن اُس کی فِکر کی پرواز کو بال و پر نصیب ہوتے گئے اور مزید بلندیاں نصیب ٹھہری ہیں ع

عجب سی بات ہے جو ہے ترے ملن کا مقام 

وہی ہماری جدائی کا اک حوالہ ہے

یہیں پہ قرب میسر ترا یہیں پہ فراق

ہمیں نصیب نے کن راستوں پہ لا ڈالا ہے

وہ افقِ ادب پر ماہتاب کی طرح ابھرا ہے ، اس کے کلام میں نرمی اور نغمگی دونوں ہیں ، مجھے یقین ہے اس کے نقوش رنگوں کی تازگی کے ساتھ باقی رہیں گے اور ادبی دنیا میں اس کا تذکرہ ہوتا رہے گا ع

مفلسی اشک کناں اہلِ فقر جلتے ہیں

ایسی سنگینئ حالات ہے گھر جلتے ہیں

پیار میں کربِ مسلسل کو بہت جھیلا ہے

اب تمہیں سوچنے لگتا ہوں تو پر جلتے ہیں

ضیائی ترنم سے پڑھنا بھی جانتا ہے ، جب ہم اکٹھے ہوں تو پروین کی غزل۔۔۔ کُو بہ کُو پھیل گئ بات شناسائی کی۔۔۔ بہ اصرار سنتا ہوں ، وہ ایسے لحن و غنا سے سناتا ہے کہ روح سرشار ہو جاتی ہے ۔۔۔ لیکن اس نے اپنا کلام ترنم سے ابھی تک نہیں سنایا ہے ، وہ قابلِ تحسین ہے کہ اس کوردِہ میں جہاں ادب کے اَکھوے سوکھ جاتے ہیں اس کا ذوقِ شعری مرجھایا نہیں ، وہ نظم ونثر میں جس طرف بھی قلم اٹھاۓ گنجائش پیدا کر لیتا ہے ، یہ امر غنیمت ہے کہ وہ اس گردو غبار سے اَٹے اور تعفن سے پَٹے ہوئے ماحول میں بھی دلوں میں چمکتا ہے ع

کیسے تھے خوش جمال وہ چہرے کدھر گئے

واہ واہ تھے باکمال وہ چہرے کدھر گئے

کیا کیا جتن نہ کرتے تھے تالیفِ قلب کو

رکھتے تھے جو خیال وہ چہرے کدھر گئے

جس بات پر جدا ہوئے کب اتنی تلخ تھی

آتا ہے اب خیال وہ چہرے کدھر گئے

اس میں بڑی زندہ اور بے تاب صلاحیتیں موجود ہیں ، سرکاری مصروفیت کو اس نے اپنے ذوق کی دیوار نہیں ہونے دیا ، وہ ہر بات کہہ دینا چاہتا ہے جو اس کے دماغ کا گودا اور دل کا سودا ہے ، خواہ وہ بادِ مخالف کی تُندی ہو یا بادِ صبا کا خرام ع

عزیز تھیں تمہیں شباہتیں نئ نئ

ہمیں بھی کچھ پسند تھیں یہ چاہتیں نئ نئ

یہ کیسا طرزِ دوستی کہ اب میرے خلاف ہی

تلاش کر رہا ہے تُو شہادتیں نئ نئ

کہیں رکے یہ سلسلہ کہیں پہ بات ختم ہو

سوال ہیں نئے نئے وضاحتیں نئ نئ

شریکِ اقتدار ہے وہ میرے خلاف پھر بھی کیوں

اٹھا رہا ہے شورشیں بغاوتیں نئ نئ

وہ بڑے کام کا آدمی ہے ، حاسدین نے موقع بہ موقع اپنی چال قائم رکھی کہ کسی طرح ان کے مفادات کی زنجیر پیوست رہے ، انہوں نے پچھلے پاؤں اس قدر گرد اڑائی کہ وہ خود اس میں دھول ہو گئے لیکن ضیائی مشیتِ ایزدی سے اجلے دامن منزل کی جانب بڑھ گیا ۔۔۔ نتیجتہً مخالفین کی سوچ ٹوٹی اور تعاقب کرنے والوں کے عزائم کا چہرہ اُتر گیا ع

جو زر تلاش تھے رزدار ہو گئے آخر

نگاہِ خِرد میں بے کار ہوگئے آخر

ہمیں بھی مان تھا کتنا محافظوں پہ مگر

لمحے میں ریت کی دیوار ہو گئے آخر

مری سپاہ کو کس کے فسوں نے ڈھیر کیا

لڑے بغیر گرفتار ہو گئے آخر

کسی کے دل سے وہ مانگی ہوئی دعائیں تھیں

بھنور جو ناؤ کے پتوار ہو گئے  آخر