آر پار تجارت کے تعطل کا خدشہ

 سرحد پار تاجروں پر بھاری  ٹیکس اور جرمانہ عائد کرنے پرآر پار تجارت  کے تعطل کا  خدشہ لاحق ہے جس کی وجہ سے تاجروں  میں  تشویش کی لہر دوڈ گئی ہیں۔اس دوران گذشتہ3ہفتوں سے ایل اﺅ سی ٹریڈ بند  جبکہ مظفرآباد میں تاجرں کی بھوک ہڑتال 7ویں روز میں داخل ہوئی ہے ۔پریس فار پیس نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ سرحد کے آر پار تجارت ٹھپ ہونے کہ وجہ سے دونوں ملکوں کے رشتوں پر منفی اثر مرتب ہو سکتا ہے۔  ایل اﺅ سی ٹریڈمنقسم ریاست جموں و کشمیر کے دونوں حصوں کے درمیان3سال قبل امرناتھ اراضی قضیہ کے بعد بڑے دھوم دھام سے شروع کیا گیا تھا تاہم اس دوران مسلسل دونوں اطراف کے تاجروں نے ناقص بنیادی سہولیات اور ڈھانچے کے علاوہ بینکنگ اور مواصلاتی سہولیات کے فقدان  پر آوازیں بلند کی تاہم ہنوز دونوں سہولیات کو ہندو پاک کی حکومتوں کی طرف سے فراہم نہیں کیا گیا۔ اس دوران سرحد پار پاکستانی حکام کی طرف سے بڑے پیمانے پر کشمیری اشیاءاور سامان پر ٹیکس کے علاوہ جرمانہ عائد کرنے کے خلاف مظفر آباد کے تاجروں نے مسلسل 7دنوں تک بھوک ہڑتال کیا تاہم حکومت کی طرف سے مسلسل خاموشی کے بعد تاجروں نے آر پار تجارت پر بریک لگانے کا فیصلہ کیا جو گذشتہ تین ہفتوں سے جاری ہے ۔ آر پار تجارت پر بریک کی وجہ سے دونوں اطراف سے تاجروں میں سخت تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے اور یہ خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر حکومتوںکی طرف سے سنجیدگی سے اس مسئلے کو حل نہیں کیا گیا تو یہ تاریخی تجارت ایک بار پھر دم توڑے گی ۔ سرحد پار تاجروں کا ماننا ہے کہ کشمیر سے جو اشیاءاور سامان مظفر آباد پہنچتا ہے اُس کی پوری کھپت مظفر آباد جیسی چھوٹی منڈی اور ریاست میں نہیں ہوتا جس کے سبب انہیں یہ سامان پاکستان کے مختلف شہروں کی منڈیوں تک پہنچانا پڑتا ہے تاہم مظفر آباد سے باہر جاتے ہی اس سامان پر بھاری ٹیکس اور جرمانہ لگایا جاتا ہے جس کی وجہ سے تاجروں کو بہت نقصان اٹھانا پڑرہا ہے ۔ مظفر آباد میں مقیم تاجروں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس حوالے سے ایک پالیسی مرتب کرے اور اس اشیاءکو ٹیکس فری قرار دے کیونکہ آر پار تجارت کو خیر سگالی جذبے اور اقدامات کے طور پر منقسم ریاست کے دونوں اطراف سے شروع کیا گیا تھا اور یہ کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی رشتے مضبوط ہونے کے ساتھ ساتھ سرحد کے آر پار خیر سگالی کا ماحول پیدا کیا جائے ۔ ادھر اوڑی مظفر آباد ٹریڈ یونین کے صدر ہلال ترکی نے  بتایا کہ جب پاکستانی زیر انتظام کشمیر کے تاجر ہڑتال ختم کریں گے تو وہ بھی باضابطہ طور پر یہاں سے اپنا مال سرحد کے اُس پار بھیجیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ گذشتہ ایک ماہ سے آر پار تجارت ٹھپ ہونے کی وجہ سے تقریباً 1200مال بردار گاڑیاں سرحد عبور کرنے سے رہ گئی جس کی وجہ سے 50سے 60کروڑ روپے کا مال دونوں منڈیوں میں درآماندہ ہوکر رہ گیا ۔ ہلال ترکی نے مزید کہا کہ اس وقت اوڑی کی منڈی میں تقریباً100گاڑیوں میں مال برا ہوا ہے جو اس بات کا انتظار کررہی ہے کہ کب آر پار تجارت شروع ہوجائے اور وہ گاڑیاں اوڑی سے مظفر آباد کی طرف روانہ ہو۔ ہلال ترکی نے کہا کہ آر پار تجارت ٹھپ ہونے کی وجہ سے لاکھوں روپے کا مال سڑ رہا ہے جس کی وجہ سے تاجروںمیں سخت تشویش لاحق ہورہی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اس تجارت کو باہمی طور پر آپسی رشتوں کو مضبوط کرنے کیلئے شروع کیا گیا تھا تاہم وقت کے چلتے ہی اسے تقریباً 15ہزار افراد کی روزی روٹی کا سامان پیدا ہونے لگا۔ انہوںنے کہا کہ اگر آر پار تجارت بند ہوئی تو ہزاروں کنبوں کو فاقہ کشی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کے این ایس سے بات کرتے ہوئے انہوںنے حکومت پاکستان سے اپیل کی کہ وہ جلد از جلد اس مسئلے کا حل برآمد کرے تاکہ یہ تواریخی تجارت ایک بار پھر پٹڑی پر آجائے ۔ انہوںنے کہا کہ تجارت کے ٹھپ ہونے کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان رشتے بگڑ جانے کا خدشہ لاحق ہوا ہے جبکہ اس سے براہ راست کاروبار بھی اثر انداز ہورہا ہے ۔ ادھر امن اور ترقی کی خواہاں پریس فار پیس نامی غیر سرکاری تنظیم نے مظفر آباد میں ہندوستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ 148ایل اﺅ سی ٹریڈ 147 کو دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے پہل کرے اور سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلے کو حل کریں ۔ پریس فار پیس کے ڈائریکٹرنے کہا ہے کہ اس تجارت کو بحال کرنے کیلئے تاجروںکو راحت فراہم کرنی چاہیے اور ایسی پالیسیاں مرتب کرنی چاہیے جس کی وجہ سے روز بروز اس تجارت کو فروغ حاصل ہو۔ انہوںنے خبردار کیا کہ اگر 1یجنسیوں نے آر پار تجارت کے حوالے سے اپنی پالیسیاں تبدیل نہیں کی تو دونوں ملکوں کے درمیان جو پُرامن ہوا چل رہی ہے اُسے زک پہنچنے کا خدشہ لاحق ہوگا۔ انہوںنے کہا کہ اگر تاجروں کے جائز مسائل کو جلد سے جلد حل نہیں کیا گیا تو ہند وپاک کے درمیان جو امن عمل کا سلسلہ چل رہا ہے اُسے دھچکہ لگ سکتا ہے اور یہ کہ انتہا پسند اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے ۔ سید راجا نے کہا کہ جموں وکشمیر کی منقسم ریاست کے آر پار تجارت کو کئی بار روکا گیا ہے جبکہ نئی دہلی اور اسلام آباد تاجروں کے جائز مطالبات کو حل کرنے میں ناکام ہوئے ہیں اور یہ کہ یہ عمل دونوں ملکوں کی طرف سے تعطل اور سُست رفتاری کا شکار ہواہے ۔ انہوںنے مشورہ دیا کہ آر پار تجارت کی وجہ سے نہ صرف دونوں ملکوں کے درمیان دوسری کی فضاءمزید مضبوط ہوگی بلکہ دونوں خطوں کے درمیان سماجی و اقتصادی صورتحال میں بہتری آئے گی اور ایک پُرامن فضاءقائم ہوگی۔ اس دوران انہوںنے دونوں ملکوں سے اپیل کی کہ وہ آر پار تجارت کو فروغ دینے کے حوالے سے بینکنگ اور مواصلاتی سہولیات جلد از جلد فراہم کرے اور یہ کہ اس تجارت کی راہ میں حائل رکاوٹوںکو دور کرنے کے اقدامات اٹھائیں۔
Comments