Peace & Security‎ > ‎

127

کشمیر کی سول سوسائیٹی متحرک کردار ادا کرے تو یہاں نہ صرف وہ تمام شہادتیں محفوظ رہ سکتی ہیں بلکہ ان کی بنیاد پر ہمں بین الاقوامی سطح پر اپنا کیس مزید مظبوط انداز میں پیش کرسکتے ہیں جو کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں کشمیریوں کے ساتھ ظلم و بربریت کے المناک مناظر سے بھری پڑی ہیں ۔ستم ظریفی یہ ہے کہ جو بین الاقوامی طور پر واقعات سامنے بھی آتے ہیں ان پر بھی یہاں کی سول سوسائیٹی عملا بے خبر ہی رہتی ہے اس حوالے سے مفصل منصوبہ بندی ،منظم حکمت عملی کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے ۔سوشل میڈیا کی موجودگی اور جدید ترین ذرائع ابلاغ کے باعث یہ کام ہزاروں میل دور بیٹھ کر بھی کیا جاسکتا ہے مگر اک ہم ہیں کہ فرصت نہیں جہاں سے ہمیں ۔۔۔۔

چار دن دارلحکومت میں گزارنے کے بعد ہماری منزل بوٹم بونگ تھی ۔صبح سویرے ہوٹل سے بذریعہ بس ہمارا قافلہ روانہ ہواخوبصورت سڑک کے ارد گردہرے بھرے جنگلات تھے جہاں آبادی تھی وہاں بھی درختوں کی کثرت نظر آئی ۔پھر کھیت شروع ہو گئے کمبوڈیا میں سارا سال تقریبا موسم ایک جیسا رہتا ہے آب و ہوا چاول کی کاشت کے لیے نہایت موزوں ہے چاولوں کے وسیع و عریض کھیت اور ناریل کے جنگلات کی موجودگی سے یہ اندازہ لگانا ممکن تھا کہ یہاں کے لوگ زراعت میں کتنی دلچسپی رکھتے ہیں ۔تقریبا سات گھنٹے کی طویل مسافت طے کرنے کے بعد جب ہم بوٹم بونگ شہر میں داخل ہوے تو مرکزی چوک پر کمبوڈیا کے بادشاہ کا دیو قامت مجسمہ ہمارا استقبال کررہا تھا ۔کیماروچ کی افواج کا یہ علاقہ آخری دنوں تک مرکزی ہیڈ کوآرٹر رہا ۔ہماری میزبان نے ہمیں بتایا کہ اس شہر میں گزشتہ سال ہی بجلی کی بحالی ممکن ہو سکی ہے مگر یہاں بھی چند عرصے میں مثالی ترقی دیکھ کر ہم زیادہ حیران نہیں ہوئے شہر سے کچھ میل کے فاصلے پر ہمارا مسکن ایک دیہی علاقے میں تھا جہاں ہم نے اگلے تین دن گزارنے تھے ۔جب گاؤں کے مرکزی گیٹ سے ہماری بس اندر داخل ہوئی تو ہم حیران رہ گئے ۔انتہائی خوبصورتی سے بنے لکڑی کے مکانات ،صاف ستھری آب و ہوا اور انتہائی مہمان نواز دیہاتیوں نے ہماری خوب آؤ بھگت کی ۔گاؤں کے مرکزی دروازے کے باہر ایک کیفے تھا جہاں انٹرنیٹ کی سہولت میسر تھی ۔کمبوڈیا میں تقریبا ہر ریستوران اور چھوٹے موٹے تفریحی سنٹرز پر جدید ترین وائی فائی انٹر نیٹ کی فری سروس سیاحوں کی سہولت کے لیے میسر ہے۔شام کو کھانے کے بعد مقامی نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے مقامی موسیقی کے ساتھ رقص کیا اور ہمیں خوش آمدید کہا ۔مقامی آبادی نے اپنی اور بعض غیر سرکاری تنظیموں کی مدد سے سیاحوں کی سہولیات کے لیے چھوٹے چھوٹے مکانات اور دیگر ضروریات زندگی کا سامان فراہم کرنے کے لیے خصوصی اقدامات کیے ہوئے تھے ۔یہاں کی دیہی زندگی میں عجیب سی اپنائیت محسوس ہو رہی تھی ۔رسم و رواج کے متعلق جاننے کے لیے ہم نے ساتھیوں سمیت طے کیا کہ باہر نکلا جائے اور مقامی آبادی سے ملا جائے تو پتہ چلا کہ جس طرح ہمارے ہاں دلھن کو دولھا بیاہ کر ساتھ لیجاتا ہے یہاں اس کے برعکس دلھن دولھا کو بیاہ کر لاتی ہے ۔گھر کے زیادہ تر کام مرد کرتے ہیں جبکہ خواتین عملی زندگی میں زیادہ کام کرتی ہیں ۔شادی کی تقریبات میں مہمانوں کی مقامی روایتی کھانوں سے تواضع کی جاتی ہے ۔ہر شادی میں کیلے اور ناریل کو خصوصی طور پر رکھا جاتا ہے ۔علامتی طور پر بھی بنے ہوے ان پھلوں کے ماڈل سجائے جاتے ہیں جس کا مطلب نو بیاہتا جوڑے کے لیے ترقی اور خوشحالی کی دعا کرنا ہے ۔زیادہ تر آباد ی بدھ مت سے تعلق رکھتی ہے مگر چند ایک بیرونی علاقوں میں مسلمان بھی آباد ہیں جس کا ثبوت ہمیں اپنے سفر کے دوران ملا جب ہم نے چند ایک مسجدیں دیکھیں ۔یہاں تین دن گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا کبھی کبھی گرمی کی وجہ سے احساس ہوتا کہ شائد وہی موسم واپس آجائے جو ہم پاکستان میں چھوڑ کر گئے تھے جہاں شدید سردی تھی ۔ایک دن ہمارے ساتھ سرینگر سے سی آر کی کوآرڈی نیٹر ازابیر علی کی تجویز پر یہ طے ہوا کہ رات کو ایک اپنا میوزیکل پروگرام کیا جائے آر پار کا مقابلہ موسیقی رات گئے تک جاری رہا اور سب شرکاء اس سے بھرپو ر لطف اندوز ہوے اور جو شریک نہ ہو سکے پچھتاتے رہے ۔یہاں بھی ہماری درس و تدریس کا سلسلہ جاری رہا اور میزبان حسب وعدہ ہر روز نادر و نایاب کتب ہماری ملکیت میں دیتے رہے ۔یہاں بھی زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کے ساتھ ساتھ چھوٹا موٹا کاروبار بھی کرتے ہیں ابھی یہاں سیاحت انتہائی تیزی سے ترقی کر رہی ہے ۔کمبوڈین باشندوں کی جو بات ہمیں سب سے زیادہ بھلی لگی وہ یہ کہ وہ غیر ملکیوں سے انتہائی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں ۔جس حالت میں بھی ہوں ان کا رویہ دودستانہ ہوتا ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ سیاحت کے فروغ کی وجہ سے کمبوڈیا جیسے ملک میں معیشیت انتہائی تیزی سے ترقی کررہی ہے زیادہ لین دین ڈالر میں ہونے کی وجہ سے اگرچے مقامی کرنسی روبہ زوال ہے مگر ڈالر کی زور دار آمد سے زرمبادلہ کا مسلہ نہیں ۔یہاں بھی حکومت نے سیاحوں کو سہولیات کی فراہمی کے لیے اقدامات اٹھانے شروع کر دیے ہیں جن میں بہترین سڑکات کی تعمیر ،انٹرنیٹ کی فراہمی ،بجلی سمیت دیگر تمام لوازمات زندگی کو یقینی بنایا جانا شامل ہے ۔ایک خاص بات جو ہمیں پورے دورے کے دوران محسوس ہوئی کہ ائیرپورٹ پر ہمیں اگرچے چیکنگ کے طویل مرحلے پر گزرنا پڑا اور اپنے فنگر پرنٹس سمیت تمام ضروری نمونے کمبوڈین امیگریشن حکام نے حاصل کیے مگر اس کے بعد واپسی تک ہمیں کسی سیکورٹی ایجنسی یا پولیس اہلکار نے دن ہو یا رات یہ نہیں پوچھا کہ کیا کررہے ہو اور کدھر جارہے ہو اور یہی وجہ ہے کہ آج سیاحت کمبوڈیا کا سب سے بڑا نفع بخش ادارہ بن چکا ہے اور اس میں دن بدن اضافہ ہی ہو رہا ہے ۔بوٹم بونگ میں تین دن کیسے گزرے اس کا پتہ ہی نہیں چلا البتہ جب یہاں سے نکلنے لگے تو احساس ہوا کہ اتنا وقت ہو گیا ہے ۔راتوں کو دیر تک جاگنے اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ سے یہ احساس ہی نہیں رہا کہ وقت کتنی تیزی سے چل رہا ہے ۔اب ہماری اگلی منزل سیم ریپ تھی ۔ یہ شہر کمبوڈیا کا دوسرا بڑا تجارتی مرکز ہے ۔بس سے پانچ گھنٹے سے زائد کا سفر کرنے کے بعد جب ہم یہاں پہنچے تو تھکاوٹ سے چور چور تھے ۔دوسرے دن ہم نے پروگرام بنایا کہ یہاں کوئی ایسا ہوٹل تلاش کریں جہاں سے کچھ پاکستانی یا انڈین کھانے مل سکیں کیونکہ پچھلے کئی دنوں سے پیٹ کی پیاس صحیح طریقے سے نہیں بجھی تھی یہاں ہمارے دوست پروفیسر بشیر احمد ڈار صاحب کے بیٹے کے دوست شکیل احمد زرگر سے بھی ملاقات ہوئی جو کہ یہاں کافی عرصے سے تجارت کررہے ہیں زرگر صاحب نے ہمیں اپنی مارکیٹس کا بھی دورہ کروانے کے ساتھ ساتھ ایک پاکستانی ہوٹل میں بھی لیکر گئے جہاں ہم نے جی بھر کر کھانا کھایا ۔یہاں دنیا کے اندر بارودی سرنگوں کے خاتمے کے لیے جاری مہم کا سنٹر ہے جس جگہ ہماری کلاسز ہو نی تھیں وہاں ایک انٹر فیتھ سنٹر بھی تھا جہاں تمام مذاہب کی مقدس کتابوں کے لیے ایک کمرے میں جگہ رکھی گئی تھی ۔یہاں سوڈان سے آنے والے کچھ دوستوں سے بھی ملاقات ہوئی اور انہوں نے اپنے اپنے تجربات سے ہمیں آگاہ کیا۔سیم ریپ شہر کی خاص بات یہاں کی نائیٹ مارکیٹس تھیں پورے کمبوڈیا میں صرف اس علاقے میں آپ کو نائیٹ مارکیٹس ملیں گی جہاں ضروریات زندگی اور آسائش کا تمام سامان فروخت کے لیے موجود تھا مگر دام پوچھو تو پھر خریدنے کا خیال ہی ترک کر دو ،کشمیری تاجر شکیل زرگر صاحب نے ایک دن ہمیں اپنے گھر لے گئے جہاں انہوں نے روایتی کشمیری کھانوں سے ہماری خوب تواضع کی اگرچے ان کے ساتھ صرف ہم چند ایک لوگ ہی تھے جو گئے مگر سب نے اتنا کھانا کھایا کہ ان کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑا اس کے باوجود انہوں نے انتہائی خندہ پیشیانی سے باقی دوستوں سمیت کھانے کی ایک اور دعوت دی جس پر عمل کرنا ہمارے لیے طے شدہ پروگرام کے باعث ممکن نہ تھا ۔واپسی کے لیے ہماری فلائیٹ اسی شہر سے براستہ بنکاک تھی کشمیری دوستوں کے ساتھ بنکاک تک پہنچے جہاں الوادعی سلام کرتے وقت بیشتر لوگوں کی آنکھیں نم تھیں پتہ نہیں تھا کہ زندگی میں پھر ملاقات ہو گی یا نہیں ۔

جمہوری حکومت کے علمبردار کیماروچ کے دور میں ایک کروڑ ستر لاکھ سے زائد کمبوڈین باشندوں کی نسل کشی کی گئی ،ہمیں ٹارچر سیل دکھاے گئے ،لاکھوں کی تعداد میں ان باشندوں کی باقیات جن میں کھوپڑیاں اور ہڈیاں شامل تھیں کمبوڈین حکومت نے مختلف عجائب خانوں میں ان کو محفوظ رکھا ہوا ہے جو کہ دنیا بھر سے آنے والے افراد کے لیے توجہ کا محور ہے ۔

جمہوری آمریت کے نام سے یاد کیے جانے والے اس دور میں انسانیت کا جو قتل عام کیا گیا اس کی داستانیں سن کر دل لرز جاتے ہیں ان مشکل حالات کا سامنا کرنے والے چند ایک افراد سے ملاقاتوں میں ان کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کی آنکھیں بھی نم رہیں ۔شہر کے مختلف مقامات میں سینکڑوں کی تعداد میں اجتماعی قبریں اور ان کے دہانوں پر انسانی باقیات کو دیکھ کر دل لرز اٹھتا ہے ۔اذیت خانے کے دورے کے دوران ہمارے گروپ میں شامل چند خواتین کی حالت غیر ہو گئی اور انہوں نے باہر نکل جانا ہی مناسب سمجھا مگر ہم زیادہ تر لوگوں نے تمام جگہوں کا نہ صرف معائینہ کیا بلکہ  اس ظلم و بربریت پر ماتم بھی کرتے رہے ۔ایک ایسے فرد سے بھی ملاقات ہوئی جو اس اذیت خانے میں سے بچ کر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا ۔اذیت خانے کے باہر اس نے اپنی سوانح عمری فروخت کے لیے رکھی ہوئی تھی جسے سینکڑوں کی تعداد میں غیر ملکی بڑے شوق سے خریدتے رہے ۔شام کو ہم نے کمبوڈین شاہی محل کا بھی دورہ کیا اور وہاں پر موجود نادر تاریخی نوادرات کو بھی دیکھا ۔انتہائی خوبصورتی سے بنائے گئے اس شاہی محل میں داخلے کے لیے محکمہ سیاحت کمبوڈیا نے باقاعدہ ٹکٹ رکھا ہے ۔محل کے احاطے میں داخل ہوتے ہی ایسا لگا کہ کئی سو سال پیچھے چلے گئے ہیں ہر طرف خوبصورت سنہری رنگ میں لپٹی ہوئی خوبصورت عمارات دلکشی کا منظر لیے دعوے نظارہ دے رہیں تھی ۔پرانے برتن ،زیورات ،ہتھیار یہاں نمائش کے لیے رکھے گئے ہیں جو سیاحوں کی توجہ کا خاص مرکز تھے ۔کمبوڈیا میں زیادہ ترڈالر ہی کرنسی کے طور پر استعمال ہوتا ہے ۔مقامی کرنسی اگرچے موجود ہے مگر اس کی حیثیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ہوٹلوں ،رکشوں ،دکانوں پر ڈالر ہی استعمال ہوتا ہے ۔نوم فین کمبوڈیا کا دارلحکومت ہے ۔اسمبلی ،مسلح افواج کے ہیڈ کوآرٹرز ،اور بادشاہ کا شاہی محل یہیں واقع ہے ۔شہر بھر میں خوبصورت سڑکوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔سیاحوں کی سہولیات کے لیے مارکیٹیں ،ریستوران ،تفریحی مقامات کی تعمیر میں مغربی انداز واضع طور پر نظر آتا ہے ۔کیلوں کے چپس ،مقافی پھلوں ،اور مصنوعات سمیت دنیا بھر کی روزمرہ اشیاء یہاں سے باآسانی آپ کو مل سکتی ہیں ۔

لاکھوں کی تعداد میں ان باشندوں کی باقیات جن میں کھوپڑیاں اور ہڈیاں شامل تھیں کمبوڈین حکومت نے مختلف عجائب خانوں میں ان کو محفوظ رکھا ہوا ہے جو کہ دنیا بھر سے آنے والے افراد کے لیے توجہ کا محور ہے ۔

میں ،ڈاکٹر نگہت یونس ،الپنا اور شہناز گردیزی شاہی محل کی رنگینیوں میں کھو جانے اور ہر چیز کو دیکھنے پر کافی وقت صرف کرنے کے باعث باقی ماندہ گروپ سے الگ ہو چکے تھے سب نے ملکر یہی طے کیا کہ سب سے پہلے کہیں چل کر کھانا کھایا جائے شاہی محل کے دورے کے بعد بھوک کی شدت میں بے حد اضافہ ہو گیا تھا ایک تودیار غیر اور اوپر سے عجیب و غریب کھانے سے دل اکتا گیا تھا ۔عجیب و غریب طرز کی سبزیات ،مصالوں کی خوشبو جو ہمیں زیادہ بد بو لگتی ۔کھانا کھاتے ہوے رونا آتا تھا پھر اوپر سے حلال خوراک کا ملنا بہت ہی مشکل ،مچھلیوں کے ساتھ دو دو ہاتھ کرتے تھک چکے تھے سب نے ملکر ہاں میں ہاں ملائی ۔ایک ٹک ٹک ( رکشے والے ) سے بات کی کہ اگر یہاں کوئی حلال ریسٹورنٹ مل جائے مگر نا سود خیر مارکیٹوں میں چلتے رہے آخر کار ایک بھارتی ریستوران کے باہر ایک رکشے والے نے ہمیں کہا کہ وہ حلال خوراک والے ریستوران تک ہمیں پہنچا سکتا ہے جس کے عوض ہمیں دو ڈالر ادا کرنے ہونگے جان میں جان آئی شیر پنجا ب کے نام سے کمبوڈیا میں ہوٹل دیکھ کر دل خوش ہو گیا ۔پتہ چلا کہ یہاں بھارتی باشندے ہزاروں کی تعداد میں کاروبار کرتے ہیں جن میں زیادہ تر ہوٹلنگ کا کام کرتے ہیں ۔نیپال سے تعلق رکھنے والے ویٹر نے شکلوں سے ہمیں پہچان لیا اور جب اردو میں بات کی تو ہم سب خو ش ہو گئے رکشے والے نے پیشکش کی کہ آپ ٹائم بتائیں میں آپ کو واپس لینے آجاؤں گا کافی دن بعد پیٹ بھر کر کھانے کھانے کے بعد ہم رکشے پر دوبارہ شاہی محل کے گیٹ پر پہنچے جہاں ہم سب نے اکٹھے ہونا تھا ۔شاہی محل کے دورے کے دوران یہی طے ہوا تھا کہ ہم سب اپنے اپنے طور پر شہر کا دورہ کرینگے اور واپسی پر چھ بجے یہاں اکٹھے ہونگے ۔نوم فین کے درمیان ایک خوبصورت دریا ہے جس کے اوپر ہر وقت کشتیاں چل رہی تھیں ۔سیاحوں کے رش کی وجہ سے لائن لگا کر انتظار کے بعد باری آتی کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد ہم نے واپس جانے میں ہی عافیت جانی کیونکہ اگر یہاں رکتے تو کافی وقت ضائع ہوجاتا تھا اور جلدی باری آنے کی کوئی توقع نہیں تھی۔ہماری حیرانگی اس وقت انتہاء کو پہنچ گئی جب ہمیں ایک مقامی باشندے نے بتایا کہ یہ دریا چھ مہینے ایک طرف اور چھ مہینے دوسری طرف چلتا ہے ۔سردی کی وجہ سے ایک حصے پر پانی جب منجمد ہو جاتا ہے تو وہ دوسری جانب چلنا شروع کر دیتا ہے ۔کمبوڈیا میں چاول کی کاشت بہت زیادہ ہوتی ہے پانی کو بہترین طریقے سے زرعی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے ۔سیاحوں کے ساتھ مقامی باشندوں کا حسن سلوک قابد دید تھا ۔پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ کمبوڈیا کی ستر فیصد آباد مقامی باشندوں پر مشتمل ہے کاروبار زندگی میں خواتین ہر محاذ پر چھائی ہوئی ہیں اور چونکہ ان کی آمدنی کا زیادہ تر دارومدار سیاحت پرہے اس وجہ سے سیاحوں کو بہت قدر منزلت دی جاتی ہے ۔ہمیں بھی اس چیز کا احساس ہوا ۔سیاحوں کی سہولیات کے لیے حکومت نے ہر ممکن اقدامات کیے ہیں ۔ مارکیٹوں اور شہر کے مختلف مقامات کے دورے کے دوران ایک چیز جس نے مجھے بہت زیادہ متاثر کیا وہ یہ کہ ہر مارکیٹ اور ہر چوک پر آپ کو کوئی نہ کوئی سٹال یا کو فرد کمبوڈیا کی تاریخ ،واقعات ،اہم مقامات کے حوالے سے کتب فروخت کرتا اور آنے جانے والوں کو اس کی ترغیب دیتا ہوا نظر آئیگا ۔انگریزی زبان اگرچے وہاں بہت کم بولی اور سمجھی جاتی ہے مگر انہیں اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ دنیا بھر سے لوگ یہاں آتے ہیں تو وہ اپنی تاریخ اور ثقافت کے حوالے سے ان کے ساتھیوں کو بھی یہ بتائیں کہ کمبوڈیا کیا ہے اور وہاں کیا ہوتا رہا ۔کمبوڈیا سے متعلق

تمام تر لڑیچر انگریزی زبان میں تھا۔

جب کیماروچ کے دور میں شخصی آزادیوں کو ختم ،بنیادی انسانی حقوق پر پابندیاں لگاتے ہوئے اپنے مخالفین کی نسل کشی شروع کی تو ان جرائم اور اس سے جڑے واقعات اور شہادتوں کو محفوظ کرنے کے لیے کمبوڈیا میں چند افراد نے ملکر ایک سرکل قائم کیا جس کا کا م یہ تھا کہ پرخطر ماحول کے اندر رہتے ہوے ان واقعات ،حقائق کی شہادتوں کو اکٹھا کرنے کے ساتھ ساتھ بیرون ملک منتقل کرنا تاکہ تاریخ میں حقیقت چھپی نہ رہ جائے ۔اگرچے اس پر انہیں بہت ساری مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر آج کمبوڈیا میں اقوام متحدہ کا خصوصی ٹربیونل قائم ہو چکا ہے جس نے چند افراد انہی جرائم کے ثابت ہونے پر سزا بھی سنا دی ہے اور بیشتر مرکزی ملزمان کا ٹرائل جاری ہے ۔یہ سنٹر انتہائی خاموشی سے ان حالات میں اپنا کام کرتا رہا اور جب کمبوڈیا میں امن قائم ہو گیا تو اس نے ایک ایک کر کہ ان تمام دستاویزات کو سامنے لایا جن سے یہ بات ثابت ہو تی تھی کہ کسطرح ایک کروڑ سے زائد افراد کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ۔اور اس سنٹر اور دیگر افراد کی جہد مسلسل کے باعث یہ مظالم نہ صرف بے نقاب ہوے بلکہ ٹرائیل بھی ہوا جس سے بین الاقوامی سطح پر یہ پیغام جاتا ہے کہ اگرچے جیسے بھی حالات ہوں انسانیت کے خلاف جرائم کرنے والوں کو ایک نہ ایک دن ضرور کٹہرے میں کھڑا ہونا پڑے گا ۔ڈاکو منٹیشن سنٹر کے دورے کے دوران ان کی ٹیم نے اپنے کام اور اس کے اثرات کے حوالے سے بتایا ۔حیرانگی اس وقت ہوئی جب مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے بتایا کہ وہاں بھی چند ایک تنظیمیں اس پر کام کر رہی ہیں کہ لاپتہ اور شہید کیے جانے والے افراد کے کوائف اکٹھے کیے جائیں ۔ذہن میں خیال آیا کہ اگر اس حوالے سے آزاد




مظفرآباد سے نوم فین تک

تحریر :راجہ وسیم

قیام امن اور تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے کے حوالے سے کام کرنے والی برطانوی تنظیم ’’سی آر‘‘کنسلیشن ریسورسز کے زیر اہتمام دس روزہ مطالعاتی دورے پر اسلام آباد سے بذریعہ بنکاک کمبوڈیا کے دارلحکومت نوم فین پہنچے تو ہمارے ساتھ سی آر کے پروجیکٹ ڈائریکٹر طاہر عزیز ،کوآرڈی نیٹرز عائشہ سعید ،ازابیر علی اور ،الطاف حمید راوء،سید وقاص علی کوثر، ڈاکٹر شاہین اختر ،گلگت بلتستان سے نامور سماجی کارکن لال بانو،یونیورسٹی آف ایگریکلچر راولاکوٹ سے ڈاکٹر نگہت یونس،شاہین بی بی ، ضلع باغ سے خاتون صحافی شہناز گردیزی جبکہ بھارت سے الپنا کشور،سری نگر سے پروفیسر بشیر احمد ڈار،صوبیہ یاسمین ،عائشہ سلیم ،جموں یونیورسٹی سے ڈاکٹر سپنا ،لداخ سے پروفیسر ڈریونڈجموں سے سینئر صحافی انڈس انسیٹیٹوٹ کے بانی معروف دانشور ظفر چودھری بھی تھے دونوں ااطراف پر مشتمل اس وفد کا ائیرپورٹ پر ہی انتہائی پرتپاک استقبال کیا گیا ۔بنکا ک ائیرپورٹ پر ہی مقبوضہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے دوستوں سے ملاقات اور ہلکی بے تکلفی شروع ہو گئی تھی مگر اب چونکہ ہم نے اگلے دو ہفتے ساتھ ساتھ گزارنے تھے اس وجہ سے ہر ایک کے دل میں یہ خواہش تھی کہ جتنی جلدی ممکن ہو بے تکلفی اور دوستی بڑھائی جائے۔

دونوں اطراف کے لوگ جب بھی ملتے ہیں اپنائیت اور محبت کی خوشبو کے اسیر ہو کر ایسے باہم شیر و شکر ہوتے ہیں کہ باقی لوگ دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں ایسی ہی صورتحال یہاں بھی درپیش تھی بنکاک سے بذریعہ ہوائی جہاز کمبوڈیا کے دارلحکومت نوم فین پہنچے جہاں امیگریشن کے طویل اور صبر آزما مرحلے سے گزرے جہاں ہماری مدد کے لیے پہلے سے ہی ہماری میزبان خاتون موجود تھیں جنہوں نے ویزا پراسس میں ہماری مدد کی ۔ ائیرپورٹ پر انسٹی ٹیوٹ آف پیس اینڈ کنفلکٹ سٹڈیز کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایما لیزلی نے پھولوں کے ہارپہناے اور گرم جوشی سے خوش آمدید کہا ۔ائیر پورٹ سے باہر نکلے تو خلاف توقع ہمیں نوم فین کے شہر کی خوبصورتی اور صفائی کا احساس ہوا ۔ہوائی جہاز پر بیٹھے ہم آپس میں یہ بات چیت کرررہے تھے کہ پاکستان اور بھارت کے مقابلے میں کمبوڈیا میں زیادہ ترقی نہیں ہوگی مگر یہاں جب اپہنچے تو ایسے لگا کہ کسی ترقی یافتہ ملک میں آگئے ہوں ۔صاف ستھری سڑکیں ،خوبصورت مارکیٹیں اور سب سے بڑھ کر ہر جگہ سبزہ اور درختوں کی موجودگی خوبصورتی کو چار چاند لگائے ہوئے تھی ۔مخصوص طرز والی تعمیرات اور خوبصورت عالیشان ہوٹلز اور عمارات دیکھ کر دنگ رہ گئے راستے میں ہماری میزبان ایما نے بتایا کہ 1998 میں یہاں بمباری کی وجہ سے یہ شہرکھنڈرات میں تبدیل ؂ہو گیا تھا مگر مختصر عرصے میں شاندار ترقی ہوئی ہے ائیرپورٹ سے واپسی پر خوبصورت سڑکوں پر چلتی گاڑیوں اور مارکیٹیوں کو دیکھ کرحیران ہوتے رہے۔

ہو ٹل میں چند پل آرام کے بعد ہمیں اپنی پہلی درس گاہ انسٹی ٹیوٹ کے مرکزی دفتر میں جانا تھا جو کہ چند فرلانگ کا فاصلہ تھا ذہن میں یہی تھا کہ آج کا دن آرام کا دن ہے کل دیکھیں گے جو ہوگا مگر جب انسٹی ٹیوٹ پہنچے تو پتہ چلا کہ یہاں تو آج بھی سیشن ہے ۔تعارفی کلمات کے بعد ایما اور طاہر عزیز جو کہ ہمارے گروپ لیڈر تھے نے دورے کی اہمیت اور افادیت کے حوالے سے بات چیت کی پھر پہلے دن سے ہی کام شروع ۔انسٹی ٹیوٹ آف کنفلکٹ سڈیز کمبوڈیا کے ان اداروں میں شامل ہے جہاں پوری دنیا کے اندر ہونے والے تنازعات کے حوالے سے کام کیا جارہا ہے ۔اگرچے سنٹر نے اپنے کام کا آغاز نہایت نامساعد حالات میں کیا مگر عزم اور ولولے کے باعث اب اس کا دائرہ کار کشمیر تک جا پہنچا تھا جو یقیناًہمارے لیے حیران کن بات تھی ۔ایما لیزلی کا آبائی وطن آسٹریلیا ہے مگر جس محنت اور لگن سے وہ کمبوڈیا میں کام کررہیں تھیں زیادہ کمبوڈین لگ رہی تھیں ۔انہوں نے شادی بھی ایک کمبوڈین باشندے سے کی جس سے ہماری ایک ملاقات بھی ہوئی ۔انسٹی ٹیوٹ کی لائبریری میں دنیا بھر کے مختلف موضوعات پر کافی لٹریچر موجود تھا ۔پہلے دن کے سیشن کے بعد ہمیں انسٹیٹیوٹ کی جانب سے کچھ کتابیں تحفے کے طور پر دی گئیں تو ہم کافی خوش تھے کہ چلو جب کبھی فرصت ملی تو پڑھائی بھی کریں گے مگر ساتھ ہی میزبان نے یہ بھی کہا کہ آپ کو روزانہ پڑھنے کے لیے کتابیں ملیں گی اور جب آپ واپس جائیں گے تو آپ کے پاس ایک ااپنی لائبریری موجود ہو گی ۔ رات کو ہمارے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا ۔دریا کے اوپر بنائے گئے ٹائی ٹینک کے نام سے اس ہوٹل کی خوبصورتی دیدنی تھی ۔یہاں روایتی کمبوڈین موسیقی اور ثقافتی رقص سے ہمارا استقبال ہوا ۔ہوٹل پر مقامی افراد ناپید جبکہ سیاحوں کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ کمبوڈیا میں سیاحت کو بہت زیادہ فروغ حاصل ہے ۔جس کا احساس ہمیں پورے دورے کے دوران ہوا کہ ہم نے مقامی افراد کم اور غیر ملکی سیاح زیادہ ہی دیکھے جس کا یقیناًکمبوڈیں معیشیت پر بھی بہت مثبت اثر پڑھا رہا ہے ۔ہوٹل میں بشیر احمد ڈار صاحب سے تفصیلی گپ شپ ہوئی ۔ڈار صاحب کا آبائی تعلق شوپیاں سے ہے مگر کئی دہائیوں سے وہ اور ان کا خاندان سری نگر میں مقیم ہیں ۔پیشے کے اعتبار سے ماہر تعلیم اور جموں و کشمیر ایجوکیشن بورڈ کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں ۔انڈیا کی نیشنل بک ٹیسٹنگ سروس کے بھی ممبر ہیں ۔ڈار صاحب نے پہلی ہی ملاقات میں سوالوں کی پوچھاڑ کر دی ۔کیا ہو رہا ہے پاکستان میں ؟کوئی پوچھنے والا نہیں ،عدلیہ میڈیا کا کردار اور جمہوریت کیسی جمہوریت ہے ،اتنے مسائل سے تو ہندوستا ن ہی بہتر ہے ایک ہی سانس میں اتنے سوالات سن کر میں حیران رہ گیا ۔جواب دیا جناب پاکستان میں پہلی منتخب حکومت چار سال پورے کررہی ہے ،آئین اپنی اصل شکل میں بحال ہو گیا ہے ۔عدلیہ آزاد ہو گئی ہے ،میڈیا غیر جانبداری سے کرپشن کو بے نقاب کررہا ہے مسائل سامنے آتے ہیں تو حل ہوتے ہیں پاکستان انقلابی تبدیلی کے عمل سے گزررہا ہے پہلے آپ تک خبر نہیں پہنچتی تھی مگر مسائل اس سے کئی گنا زیادہ تھے اب ان پر کھل کر بات ہوتی ہے ججز اب انتظامیہ کی گرفت سے مکمل آزاد ہیں اور آزاد عدلیہ نے ملک کے وفاق اور مستقبل کو محفوظ بنادیا ہے ۔ ہمارا چیف ایگزیکٹو دو بار سپریم کورٹ پیش ہو چکا ہے لمبی اور تفصیلی گفتگو کے دوران ڈار صاحب کے لہجے سے مجھے اپنائیت محسوس ہوئی کہ انہیں اگر فکر ہے تو یقیناًمحبت بھی ہے اور بعد میں پول کھلا یہ ہم تو نام نہاد محبت کے دعوے دار ہیں اصلی تو وہ لوگ ہیں جو اغیار کے قبضے میں رہ کر بھی اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں ۔بشیر صاحب پاکستانی سیاست ،معشیت ،معاشرت پر سوالات کرتے جاتے اور میں اپنی استعداد کے مطابق جوابات دیتا جاتا اس دوران احساس بھی نہ ہوا کہ کھانا بھی کھا لیا ہے ۔ڈار صاحب نے کہا کہ اب کچھ تسلی ہوئی ہے ورنہ ہم تو وہاں کافی پریشان تھے کہ یہ کیا ہورہا ہے میں نے کہا جناب اب تاریخ میں پہلی بار امریکہ کو آنکھیں دکھانے کے ساتھ ساتھ ملکی وقار اور غیرت کی بھی بات ہوتی ہے یہ ایک نیا پاکستان ہے اور ہم اس سے قطعی ناامید نہیں

دوسری صبح ہمارا پھر سیشن تھا ۔کمبوڈیا کی تاریخ اور موجودہ حالات کا موازنہ ہمارے لیے سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ ایک 



Comments