گریس نیشنل پارک کے قیام کا مطالبہ

 پریس فار پیس نے گریس نیشنل پارک کے قیام کے سلسلے میں مقامی کمیونٹی اور حکومتی اداروں کے درمیان پیدا ہونے والے تنازعہ کے حل کے لیے ایڈوکیسی مہم شروع کرنے کا اعلان کر دیا۔مجوزہ مہم کے دوران پریس فار پیس پارک کے قیام کے لیے کام کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر لابنگ اور ایڈوکیسی کے زریعے تنازعہ کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کرے گی ۔ ایڈوکیسی مہم کے دوران اشتہارات ، پمفلٹ اور رپورٹس کے ذریعے مقامی کمیونٹی کو پارک کے قیام کی اہمیت و افادیت سے آگاہ کیا جائے گا ۔ پریس فار پیس کے شعبہ میڈ یا اینڈ کمیونیکیشن سے جاری ہونے والی ایک ریس ریلز کے مطابق حال ہی میں وادی نیلم کے علاقہ گریس میں مقامی کمیونٹی اور حکومتی اداروں کے درمیان پارک کے قیام کے سلسلہ میں پیدا ہو نے والے تصادم کو ختم کروانے کے لیے مہم کا باقاعدہ آغاز جلد کیا جائے گا اور پریس فار پیس کے ممبر بورڈ آف ڈائریکٹرز جلال الدین مغل اس مہم کے انچارج ہوں گے ۔ آزاد کشمیر کے محکمہ وائلڈ لائف نے گریس کے علاقہ کو کچھ عرصہ قبل نیشنل پارک قرار دیکر مشک نافہ نامی جانور سمیت متعدد نایاب النسل جانوروں اور قیمتی جڑی بوٹیوں کی افزائش کے لے اس علاقے میں کمرشل بنیادوں پر جنگل کی کٹائی اور معدنیات کی نکاسی پر پابندی عائد کر دی تھی ۔ پارک کے علاقے میں سوشل موبلائزیشن اور مقامی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے ہمالین وائلڈ لائف فاؤنڈیشن نامی اور پروگرام فار ماؤنٹین ایریاز کنزرویشن (پی ایم اے سی) نامی تنظیموں نے ڈبلیو ڈبلیو ایف جی ای ایف اور وفاقی وزارت ماحولیات سمیت متعدد عالمی اداروں کے تعاون سے منصوبہ جات کا آغاز کیا تھا ۔ گزشتہ عرصہ میں مقامی افراد کے ہاتھوں نایاب النسل چیتے کی ہلاکت اور کے بعد وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ نے مقامی افراد پر مقدمہ درج کر کے پینتیس سے زائد افراد کو گرفتار کروا لیا تھا جس پر مقامی کمیونٹی اور حکومتی اداروں کے درمیان تصادم پیدا ہو گیا تھا ۔ علاوہ ازیں گگئی کے علاقے میں آباد لگ بھگ چالیس خاندانوں کو متبادل رہائشی سہولیات فراہم کیے بغیر وہاں سے بے دخل کرنے اور توانائی کے متبادل ذرائع کی فراہمی کے بغیر جنگلات سے ایندھن کے حصول پر پابندی لگانے کی وجہ سے یہ تنازعہ شدت اختیار کر گیا تھا اور گزشتہ دنوں اس علاقے کے سینکڑوں افراد نے کیل میں گریس نیشنل پارک کے قیام کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کے دوران حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مذکورہ نیشنل پارک کے قیام کے لیے جاری ہونے والا سرکاری نوٹیفکیشن فوری طور پر منسوخ کیا جائے ۔واضح رہے کے پارک کے قیام کے باقاعدہ نوٹیفکیشن کے اجراء کے بعد اس علاقے میں لکڑی اور معدنیات کی نکاسی پر پابندی عادء کر دی گئی ہے جبکہ پارک کے لگ بھگ چالیس مربع کلو میٹر کے علاقے میں ہر قسم کے شکار پر بھی پابندی ہے ۔ مقامی لوگوں کی اکثریت ذراعت پیشہ ہے اور اپنی روزمرہ ضروریات کے لیے مقامی جنگلات پر انحصار کرتی ہے ۔ پھلاوئی ، سرداری ہلمت نکرو اور تاؤبٹ سمیت پارک کے علاقے میں آباد اکثر آبادیوں کے مکین قریبی جنگلوں سے مشک نافہ اور دیگر قیمتی جانوروں کے شکار کے زریعے اپنی ضروریات زندگی کو پورا کرتے ہیں ۔ پارک کے قیام کے بعد وہاں پر کام کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری ادارے اربوں روپے کے فنڈز خرچ کرنے کے باوجود لوگوں کو روزگار کے متبادل زرائع فراہم نہیں کر سکے ہیں اور نہ ہی انہیں پارک کے قیام کی آفادیت سے آگاہ کر سکے ہیں جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت ابھی بھی پارک کے قیام کو اپنے لیے ایک سازش خیال کرتی ہے پریس فار پیس نے مختلف سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے ساتھ مل کر اس علاقے میں پارک کے قیام کے حوالے سے منظم شعور و آگہی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کا باقاعدہ آغاز جلد ہو گا ۔ اس دوران پریس فار پیس گریس نیشنل پارک کے قیام اور وہاں پیدا ہونے والے تنازعے کی اصل وجوہات کے بارے میں تحقیقی رپورٹ مکمل کرے گی اور ان وجوہات کے تدارک کے لیے مقامی کمیونٹی کی مشاورت سے سفارشات مرتب کی جائیں گی۔
Comments