قانون ساز اسمبلی میں خواتین کو تینتیس فیصد نمائندگی دینے کا مطالبہ


پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کشمیری خواتین نے ایک کانفرنس میں اس علاقے کی قانون ساز اسمبلی میں خواتین کو تینتیس فیصد نمائندگی دینے اور آٹھ اکتوبر سن دوہزار پانچ کے زلزلے میں جامعہ کشمیر کی مبینہ طور پر اغواء ہونے والی طالبات کو برآمد کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دارالحکومت مظفرآباد میں سماجی تنظیموں عورت فاؤنڈیشن اور پریس فار پیس کے اشتراک سے کشمیر ویمن کانفرنس منعقد ہوئی جس میں زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی سینکڑوں خواتین نے شرکت کی
کانفرنس کے اختتام پر ایک اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں علاقے کی خواتین کے لیے الگ یونیورسٹی، انہیں ہنرمند بنانے کے لیے ادارے کے قیام اور کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں خواتین کو تینتیس فیصد نمائندگی دینے کا مطالبہ کیاہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دیہی علاقوں میں خواتین کو صحت کے حوالے سے شدید مشکلات درپیش ہیں جبکہ جائیداد میں بھی عورتوں کو ان کا حصہ نہیں ملتا جس کے لیے حکومت کو اقدامات اٹھانے چاہیحکومتی مشیر شمع ملک کا کہنا ت کہ قانون ساز اسمبلی کے انچاس اراکین اسمبلی پر مشتمل ایوان میں خواتین کے لیے پانچ نشستیں مخصوص ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت قانون ساز اسمبلی میں خواتین کی نشستیں بڑھانے پر غور کر رہی ہے جبکہ خواتین کو فنی تعلیم دینے کے لیے مقامی سطح پر ادارے قائم کیے جارہے ہیں۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں خواتین پر تشدد کا تناسب پاکستان کے دیگر علاقوں سے نسبتاً کم ہے اور حکام کے مطابق یہاں کی جیلوں میں چھ خواتین مختلف الزامات کے تحت قید ہیں۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات راجہ آفتاب احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ چار خواتین قتل اور دو ڈکیتی کے مقدمات کے تحت جیل میں ہیں جبکہ قتل کے مقدمے میں ایک خاتون کو سیشن کورٹ نے سزائے موت بھی سنائی ہے جس کے خلاف انہوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کر رکھی ہے۔
واضح رہے کہ آٹھ اکتوبر سن دوہزار پانچ کے زلزلے سے ہزاروں خواتین متاثر ہوئی تھیں اور جامعہ کشمیر کی تین طالبات کو مبینہ طور پر اغواء کر لیا گیاتھا اور ان میں سے حکام کے مطابق ایک طالبہ اغواء کاروں سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوئی جبکہ دو طالبات ابھی تک بازیاب نہیں کرائی جاسکی ہیں۔
Comments