چھوٹے کاروبار-1


گھریلو صنعت اور چھوٹے کاروبار سے وابستہ افرادکا دورہ سوات

  وفد نے گھریلودستکاریوں کے حوالے سے وادیء سوات کے مشہور گاؤں اسلام پور میں قائم گھریلو صنعتی یونٹوں میں خصوصی دلچسپی لی وفد میں شامل افرادکو اسلام پور  میں ’’اون ‘‘سے بننے والی مصنوعات خصوصاً شالوں کی گھریلو دستکاری کا معائینہ کرایا گیا

 جبکہ انہوں نے ہاتھوں اور بجلی سے چلنے والی مختلف مشینوں پر ہونے والے کام کا بھی مشاہدہ کیا۔ 

 

بجلی سے توانائی کے منصوبے

 پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا خطہ آبی وسائل سے مالا مال ہے جہاں ندی نالوں اور دریاؤں کے پانی سے اب تک ساڑھے آٹھ ہزارمیگا واٹ بجلی پیداکرنے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ان میں سے کئی منصوبوں کی تعمیر کی جا رہی ہے جن سے آئندہ تین بر سوں میں تین ہزار میگا واٹ بجلی پیداکی جائے گی۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے پن بجلی کے کئی بڑے منصوبوں کی ڈیزایئنگ اور ان کی جلد تعمیر شروع کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔


تجارت معطل، کشمیری حلقوں میں تشویش

پاکستان اور بھارت کی جانب سے کشمیر کو تقسیم کرنے والی متنازعہ لائن آف کنٹرول کےدونوں جانب تجارت اور بس سروس جزوی طور پر معطل کرنے کے فیصلے پر بعض کشمیری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے
انیس جون کو پہلی مرتبہ پاکستان نے راولاکوٹ اور پونچھ کے درمیان تجارت اور بس سروس معطل کردی جو ابھی تک بحال نہیں ہوئی۔
لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کرنے والے بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ اس اقدام کی وجہ سے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔پاکستانی حکام کہتے ہیں کہ بھارت کی فوج کی جانب سے راولاکوٹ سیکٹر میں فائرنگ اورگولہ باری کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے ایک مقامی تاجر شاہد محمود نے بھی ایسی ہی شکایت کی۔
انہوں نے کہا کہ 146اس صورت حال میں ہم کھل کر کام نہیں کرسکتے کیوں بغیر بتائے کسی بھی وقت سرحد بند کر دی جاتی ہے اور دونوں جانب کے تاجر ڈر جاتے ہیں کہیں ہم مار نہ کھا جائیں145۔
لائن آف کنٹرول کے آر پار تجارت کے آغاز کے بعدکشمیر کے تاجروں پر مشتمل جوائنٹ چیمبرز آف کامرس کے پہلے صدر ذوالفقار عباسی نے اس صورتحال کو افسوسناک قرار دیا۔
نہوں نے کہا کہ 145ہم اس کو تویش کی نظر سے دیکھتے ہیں، کشمیر کے دونوں طرف کے لوگوں کو اس پر تشویش ہے خاص طور پر تاجر براداری کو145۔
 عباسی کا کہنا ہے کہ یہ قدم اعتماد سازی کے تمام اقدامات کی بنیاد ہے۔ مزید پڑھیے










Comments