آر پار -1


  • سرحدی تناو کے باوجود آر پار تجارت جاری

    آر پار تجارت ، 2018کے دوران 8کروڑ کاکاروبار

     سرحدوں پر کشیدہ حالات کے باوجود رواں برس دسمبرکے اخیر تک  اوڑی اور پونچھ حدمتارکہ کے آرپارمختلف اشیاء کی تقریبا8کروڑ روپے کی تجارت ہوئی ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان سیاسی و سفارتی سطح پر کشیدگی جاری رہنے کے باوجود آر پار تجارت کی بحالی پر دنوں طرف کے تجارتی طبقے خوش ہیں تاہم اس مخصوص طرز تجارت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ تجارت دن بہ دن سکڑتی جا رہی ہے کیونکہ یہ ٹریڈ اب کشمیریوں کا نہیں بلکہ اس پر دہلی اور لاہور کے تاجروں کا قبضہ ہے اور کشمیری محض ایجنٹ بن کر رہ گئے ہیں۔

    تاجروں کے مطابق تجارت کو مزید فعال بنانے کیلئے مرکزی اور ریاستی سرکار کو نہ صرف اشیاء کو بڑھانا چاہئے بلکہ ساتھ ہی آر پار مواصلاتی نظام اور بینکنگ سسٹم کو بھی متعارف کرانا چاہئے ۔اس دوران ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پچھلے دس برسوں کے دوران6 ہزار 7سو کروڑ کی تجارت ہوئی ہے ۔ذرائع نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ اپریل 2018سے 21دسمبر تک پونچھ راولاکوٹ کراسنگ پوئنٹ سے 104کروڑ 37لاکھ 12ہزار 4سو22روپے کا مال یہاں سے دوسری طرف برآمد کیا گیا جبکہ وہاں سے یہاں 91کروڑ 15لاکھ 33ہزار 2سو96روپے کا مال درآمد کیا گیا ۔

     اس مدت کے دوران یہاں سے وہاں  2314مال سے بھرے ٹرک گئے جبکہ وہاں سے یہاں 1631مال بردار ٹرک آئے ۔ذرائع نے اوڑی سے مظفرآباد کے درمیان تجارت کا حوالہ دیتے کہا ہے کہ اس سال اس تجارتی پوائنٹ سے بھی کروڑوں کی تجارت آر پار ہوئی ہے ۔ذرائع کے مطابق اپریل 2018سے 21دسمبر2018 تک اوڑی کراسنگ پوائنٹ سے 229.8664کروڑ کا مال یہاں سے اُس پار گیا جبکہ 295.8689کروڑ کا مال وہاں سے یہاں درآمد کیا گیا ہے ۔ذرائع نے مزید بتایا کہ اوڑی سے 2180مال سے بھرے ٹرک ایل اوسی پار گئے اور وہاں سے 2985ٹرک یہاں آئے۔

    منقسم ریاست کے آر پار پچھلے کئی برسوں سے تجارت کر رہے تاجر اس تجارت سے مطمئن نہیں ہیں۔تاجروں کا کہنا ہے کہ اس متنازع ریاست کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول(ایل او سی) کے آر پار 2008 سے جاری تجارت عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے اور منقسم خاندانوں کو ملانے میں مدد گار ثابت ہو رہی تھی تاہم پچھلے کچھ عرصے سے یہ تجارت صرف نام کی رہ گئی ہے کیونکہ اب اس پر صرف منقسم ریاست کے آر پار کشمیری ہی تجارت نہیں کرتے بلکہ یہ تجارت دہلی اور لاہور کے درمیان ہو رہی ہے ۔اوڑی مظفر آباد کے درمیان ٹرید یونین کے جنرل سکریٹری محمد آصف لون نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اب اس ٹریڈ سے مطمئن نہیں ہیں کیونکہ اس تجارت کو آگے بڑھانے میں جتنی کوششیں کی جانی تھیں اتنی کوششیں نہیں ہو رہی ہیں کیونکہ دونوں اطراف سے اس ٹریڈ کو چلانے میں کافی دشواریوں کا سامنا تاجروں کو کرنا پڑتا ہے ۔

    آصف کا کہنا تھا کہ ہم نے کئی بارمطالبہ کیا کہ آر پار تجارت کے فروغ کیلے بینکنگ کی سہولت فراہم کی جائے اور ساتھ ہی آر پار موصلاتی نظام کو بھی بحال کیا جائے لیکن اس کی جانب کوئی دھیان نہیں دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ آر پار 21اشیاء کی تجارت کی جاتی تھی لیکن آئے روز ایک ایک کر کے اشیاء پر پابندی عائد کی جاتی ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ اب یہ ٹریڈ کشمیریوں کا ٹرید نہیں رہا ہے بلکہ اس میں اب دہلی اور لاہور کے درمیان تجارت ہو رہی ہے اب کشمیری صرف ایجنٹ بن کر رہ گے ۔آر پار تجارت کے حوالے سے ایل او سی ٹریڈ کے صدر ہلال احمد ترکی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ تاجروں کے ساتھ بینکنگ نظام اور موصلاتی نظام کے جو وعدے کئے تھے اُن کو پورا نہیں کیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ1947کے بعد کشمیریوں کو یہی ایک چیز ملی تھی جس کو آگے بڑھانے کی ضرورت تھی لیکن دن بہ دن یہ تجارت سکڑتی ہی جا رہی ہے ۔

    ترکی نے کہا کہ یہ تاجر کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ کیا چیز وہاں سے لائیں گے اور کیا یہاں سے بھیجیں گے لیکن جب ہم سرکار کی مرضی سے چیز یں یہاں لاتے ہیں تو اس کا نقصان ہمیں اٹھانا پڑتا ہے اور اس وجہ ہے کہ اب لوگ اس تجارت سے دور ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پہلے ہمارے پاس 647تاجر تھے اب یہ تعداد گھٹ کر 240 رہ گی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پچھلے دس سال میں 6ہزار 7سو کروڑ کی تجارت ہوئی اور یہ سالانہ 670کروڑ بنتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ابھی تک ہم اُس مقام تک نہیں پہنچے ہیں کہ ہم یہ کہہ سکیں کہ آر پار تجارت روان دوان ہے اور دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے مطالبات سرکار کے پاس رکھے ہیں کہ اشیاء کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ آر پار مواصلاتی نظام بھی بحال کیا جائے اور ساتھ ہی تجارت کو 4دن کے بجائے 6دن کیا جائے ۔تاہم انہوں نے اس بات پر اطمنان کا اظہار کیا کہ سرحد کے آر پار تاجروں کے مال کی چیکنگ کیلئے سکینرکا کام شروع کیا جا رہا ہے اور اس کا فائدہ نہ صرف تاجروں کو ہو گا بلکہ اس سے منشیات پر بھی روک لگ سکتی ہے ۔

     

    Posted Dec 26, 2018, 2:05 PM by PFP Admin
  • آر پار کی خبریں

    روائیتی لباس پھیرن پر پابندی ،کشمیری ثقافت پر حملہ

    اطہر مسعود وانی//

    ہندوستانی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں تمام سرکاری دفاتر میں کشمیر کا روائتی لباس پھیرن(فیرن) پہن کر آنے پر پابندی عائید کی ہے۔مقبوضہ کشمیر میں متعین ہندوستانی گورنر انتظامیہ کی طرف سے جاری حکمنامے میں محکمہ تعلیم کے انتظامی دفاتر اور سول سیکریٹیریٹ میں افسروں، ملازمین اور سائلین کے پھیرن پہننے کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔اس حکم نامے کا جواز یہ بتایاگیا ہے کہ دفاتر میں غیر رسمی لباس سے بے ضابطگی کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔''بی بی سی ' کے مطابق ''کشمیر میں پہلے تو اسے سیکورٹی رسک قرار دیا گیا جسکے بعد فوجی اداروں اور پولیس کیمپوں میں عام لوگوں اور صحافیوں کے پھیرن پہن کر داخل ہونے پر پابندی عائد کردی گئی''۔مقبوضہ کشمیر میں 1988ء میں بھارت سے آزادی کی مسلح اورسیاسی تحریک کے شروع ہونے کے بعد بھی ہندوستانی حکام نے اس خوف سے کئی بار پھیرن پہننے پر پابندی عائید کی کہ کشمیری پھیرن کے نیچے بندوق چھپا سکتے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کا یہ خوف نمایاں ہے کہ انہیں پھیرن پہننے والا ہر کشمیری پھیرن کے نیچے بندوق یا پتھر تھامے محسوس ہوتا ہے۔کشمیری کے ہاتھ میں بندوق ہو یا پتھر، بھارتی فوجی ایک ہی طرح کا خوف محسوس کرتے ہیں۔یوں

    یہ کہنا بے جا نہیں کہ نہتے کشمیریوں نے ہر طرح کے جنگی ہتھیاروں سے لیس بھارتی فوج کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں  پھیرن تمام سال استعمال کیا جاتا ہے۔ مرد وزن ،بچے بھی پھیرن استعمال کرتے ہیں۔سردیوں میں گرم کپڑے اور گرمیوں میں دوسرے کپڑے سے بنے ۔مقبوضہ کشمیر میں پھیرن دو طرح کے بنائے جاتے ہیں،گھر میں پہننے والے اور دفاتر ،سکولوں وغیرہ میں پہننے والے۔دونوں میں فرق یہ ہوتا ہے کہ گھر میں استعمال والے پھیرن نچلے حصے سے زیادہ کھلے ہوتے ہیں تا کہ بیٹھتے وقت ٹانگوں کو بھی اچھی طرح ڈھانپے رہے ،جبکہ دفاتر وغیرہ میں پہن کر جانے والے پھیرن نسبتا کم کھلے ہوتے ہیں۔خواتین کے پھیرن پہ خوبصورت کڑھائی کی جاتی ہے۔سردیوں میں کشمیری پھیرن کے اندر ہاتھ میں کوئلے سے گرم کانگڑی تھامے رہتے ہیں جس سے برف کے سرد موسم میں بھی وہ گھروں سے باہر بھی نگڑی سے خود کو گرم رکھتے ہیں۔گھر کے اندر بھی ہر فرد کے پاس اپنی کانگڑی ہوتی ہے جسے وہ پھیرن کے نیچے جسم کے قریب رکھتے ہوئے گرمائش حاصل کرتے ہیں۔بلاشبہ پھیرن کشمیریوں کے کلچر کا ایک اہم حصہ ہے اور کشمیر میں مذہب کی تخصیص کے بغیر سب ہی اسے استعمال کرتے ہیں۔تاہم کشمیری ہندوئوں (پنڈتوں) کے پھیرن میں بناوٹ کے لحاظ سے ایک فرق رکھا جاتا ہے۔

    صفحہ۱ 

    مقبوضہ کشمیر کے تمام حلقوں نے بھارتی حکومت کے اس فیصلے کی سختی سے مذمت کرتے ہوئے اس حکم نا مے کو کشمیریوں کی ثقافت اور تمدن پر حملہ قرار دیا ہے۔کشمیری ہندوئوں(پنڈتوں) کی طرف سے بھی پھیرن پر پابندی کے فیصلے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔پھیرن پر پابندی کے اس حکم کے بعد سوشل میڈیا  پر کشمیریوں کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے اور بھارتی حکومت کے اس اقدام کی مذمت میں سوشل میڈیا پہ خصوصی مہم بھی شروع کی گئی ہے جس میں لوگ پھیرن پہننے اپنی تصاویر شیئر کر رہے ہیں۔سوشل میڈیا پہ پھیرن کی حمایت میں انسٹاگرام پہ #PheranLove کے نام سے پھیرن پہنے تصاویر شیئر کرنے کی مہم شروع کرنے والی روحی ناز نے '' بی بی سی'' سے گفتگو میں کہا ہے کہ پھیرن کشمیریوں کی شناخت کا مرکزی حصہ ہے، اس مقابلے کو شروع کرنے کے پیچھے یہ سوچ تھی کہ ہم پھیرن کے لیے اپنی محبت اور فخر کا اظہار کریں،پھیرن ہماری تاریخ اور ثقافت کا حصہ ہے۔آزاد کشمیر ،پاکستان اور دنیا بھر میں متعدد کشمیری،کشمیر کی یاد میں،سردیوں میں اپنے گھروں میں پھیرن استعمال کرتے ہیں۔

    کشمیریوں کلچر کے ایک ا ہم حصے ،پھیرن پر پابندی کا یہ فیصلہ واضح طور پر بھارتی حکومت کی بوکھلاہٹ کا اظہار ہے۔انہی دنوں بھارتی فوج کی طرف سے بھارتی فورسز ہر پتھرائو کرنے والے کشمیری مظاہرین کو بھی فائرنگ کرتے ہوئے ہلاک کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن اس کے باوجود کشمیریوں کی پرجوش مزاحمتی تحریک شدت سے جاری ہے۔

    کشمیری جس بہادری کے ساتھ اپنی آزادی کے حق میں بھارت کے خلاف شدید مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہیں،اس صورتحال میں  پھیرن پر پابندی کا فیصلہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل فوج کشی کے فیصلے کی طرح کا احمقانہ اقدام  ہے۔کچھ بعید نہیں کہ کل بھارت کہے کہ کشمیریوں کی آنکھیں انہیں گھورتی ہیں،کشمیریوں کی زبانیں بے خوف ہیں،کشمیریوں کے جسم بھارت کے قابو میں نہیں ہیں! کشمیریوں نے بھارت کی کونسی پابندی کو تسلیم کیا ہے جو بھارت کو فوج کشی کی ہٹ دھرمی یا ظالمانہ ،انسانیت سوز مظالماور پابندیوں کو تسلیم کریں گے؟مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے تمام تر مظالم اور جبر کے باوجود بھارت کی ناکامی کے عنوانات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

    صفحہ ۲


    Posted Dec 26, 2018, 1:32 PM by PFP Admin
Showing posts 1 - 2 of 2. View more »

Comments