مر حوم  ڈی آئی جی  الیاس کی یاد میں 

پروفیسر خالد اکبر 

  

بیتے دنوں کی بات ہے۔ ہم جامعہ کشمیر  میں  انگر یزی  زبان و  ادب میں ما سٹر ڈگری کی دیر ینہ خوا ہش  دل میں سمائے  داخل  ہو ئے۔ انگر یزی زبان کی ہماری  شُدبُد اور آگہی روا یتی اداروں میں پڑھنے اورکچھ  اپنی عدم دلچسپی کے سبب  کمتر سطح بلکہ نہ ہو نے کے برابر تھی۔ تاہم جا معہ میں اساتذہ  کا معیار اور طریقہ تد ریس وا قعی اس سطح کے طلبہ سے صحیح معنو ں میں ہم  آہنگ تھا۔ ابتدائی دنو ں میں کمرہ جماعت میں دا خل ہو تے ہی ہمار ی  شو خی گم، زبانیں گنگ اور ہونٹ سی جاتے۔

ا ردو کے فقرات کو انگر یزی میں  ڈھالنے کا جا نکا ہ اور طو فا نی سلسلہ دماغ میں اٹھتا ۔ اور  بھا ری بھر کم  رکا وٹیں  اپنے سامنے دیکھ کر اپنی مدد آپ کے تحت ہی بیٹھ جا تا۔ جملے زبان  پر پہنچنے سے قبل حلق میں اٹک کر رہ جاتے۔ پوری جماعت ہی سکوت اور  تہذیب  کا وہ  منظر پیش کرتی جیسے برسہا بر س کی ریا ضت اور تر بیت کے  پا ٹو ں میں  رگڑ رگڑ کر  سنوری  اور بنی ہو۔  

ایسے میں ایک دن گھنی مو نچھو ں، شریر نگا ہوں ، گھنے  بالوں ، پتلی ناک،  درمیانی قامت  اور جسمانی طور پر انتہائی نحیف و نزار ایک وکھر ا سا  لڑکا  پنجاب ینور سٹی سے migrate  ہو کر جامعہ کشمیر میں ہمارا  نیا  ہم سفر بنا۔  تو یکلخت سب کچھ بدل گیا۔ کمرہ جما عت میں چھایا سکوت  اور مصنوعی تہذہب کے سب بخیے  اکھڑ گئے۔ زبا نیں رواں ہو گئی ۔گفتنی  یک طر فہ کے بجائے باہمی ہونے لگی۔ اور سب سے اہم  بات  یہ کہ جماعت کے سنجیدہ اور بوجھل ماحول میں  نئی زند گی  سی آگئی۔ بظاہر غیر متاثر کن سراپا  اور دھان پان پیکر رکھنے والے  ہما رے اس  نئے ہم مکتب کی شخصیت میں وہ بلا کا اعتماد، بے ساختگی، دبنگ انداز اور ظرافت کی ایسی  منفرد  صلاحیت اور اُپج مو جود  تھی ۔ جس کے سبب  وہ آتے ہی ہر محفل کا روح رواں بن گیا۔

وہ اکثر جماعت میں اپنے نپے تلے جملوں، برجستہ  چٹکلوں اور  عمدہ اندازہ بیاں کے کارن  طلبہ اور اسا تذہ  کے لئے  تفر یح  کا سماں پیدا کر دیتا۔ سو جلد ہی اپنے منفرد اندا اور نت نئی شرار توں کی وجہ سے وہ شعبہ انگر یزی کا معروف اور ہمارے ہا سٹل کا ہردلعزیز طا لب علم بن گیا۔ چہلہ بانڈی  کا یہ بڑا ہا سٹل  ڈیڑہ  سو  کے لگ بھگ طلبہ کا مسکن تھا۔ اس میں  آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، اور پنجا ب سے طلبہ رہا ئش پزیر تھے۔

 الیا س  مرحوم  کی سُری اور بے سُری آواز ہو سٹل کی درو دیواروں میں اکثر  گو نجتی رہتی۔ صبح صبح وہ اکثرا پنی مخصو ص آواز میں گا نا گا تے۔  تو  بستروں میں محو استراحت، واش رومز میں گھسے، قد آدم  آئینوں  کے سامنے ایستادہ  خود حجامتی میں محو، استریوں پر جھکے ، کپڑوں کی سلو ٹیں نکا لنے  میں مگن اور کینٹین میں ناشتے  پر ہاتھ صاف کر تے طلبہ  کی ہنسی چھو ٹ جا تی۔ وہ زیر لب مسکرا جاتے۔ ۔سبھوں کو معلوم ہو جا تا کہ سردار صاحب بیدار ہو چکے ہیں ۔اور پلٹنے  جھپٹنے  کے لئے تیار ہو نے والے ہیں۔ ان کے ایک مشہور گانے کے بھول مکرر  اظہار کے سبب ہماری یا د داشت میں آج بھی ا سی طرح تازہ ہیں : چڑھتی جوانی وچ رُت مستانی وچ کسے نال ملنا ضرور چا ئی دہ آہ ۔تھوڑا  تھوڑا  ہسنا ضرور چائی دہ۔

ان دنوں مظفرآباد ینورسٹی نے    Linguistics  (لسا نیات )کے ساتھ ساتھ پہلی دفعہ  literature (ادب)  کے کورسز کو متعارف کروایا۔   ہماری جماعت میں پہلی دفعہ اس تجربہ  کو آزمایا گیا۔ یوں ہمیں لٹر یچر کے باب میں کسی سنیر کی رہنما ئی حاصل نہ ہوئی۔ اگر چہ ہما رے سنیرطلبہ  بہت  قابل اور مستعد تھے اور  ہمیں  ہمہ وقت تعاون، رہنما ئی اور تحریک  فراہم کرتے رہتے۔ مگر انگر یزی  ادب کے بارے میں ان کی جانکاری کم تھی۔ سو ہماری تشویش اور پریشانی  ابتدا میں کچھ  زیادہ اور مدد کا تصور عنقا تھا۔

بہرحال،ینورسٹی کی یہ نئی زندگی بہت سہانی اور طرب انگیز تھی۔ سرشام  موسم گرما کی حدت کو کم کرنے اور دل بہلانے کے لیے نوٹس بغل میں دباے ہم  قلعہ یادریا کی طرف چلے جاتے اور شام کی ٹھنڈی گدگداتی ہواوئں اور دریا کی شوریدہ سر لہروں سے  لطف اندوز ہوتے۔کبھی  کبھار  نیلم دریا کے  برفاب پانی میں پاوئں ڈال کر خاص حظ لیتے۔۔اور ساتھ ساتھ کلاس میں دی گئی assignments   بھی کر لیتے۔۔الیاس کا حافط کمال کا تھا۔وہ تھوڑے وقت میں کافی  باتیں ازبر کر لیتا۔۔اسے بے شمار محاورات،ضر ب المثال اورquotations  یاد تھیں۔ہماری ایک خوش قسمتی یہ بھی تھی کہ ہما رے ہاسٹل میں چند ایسے سنیرز طلبہ مقیم تھے جنیں انگر یزی زبان پر کمال مہارت تھی۔ان میں  موجودہ پروفیسرطارق رفیع  تراڑکھل،ڈاکٹر ماجد ایوب  فیصل ینورسٹی  سعودی عرب اور مرزاارشد  جرال  ڈ پٹی  کمشنر پو نچھ  قابل زکر  ہیں جن سے  ہم نے زبان کی نوک پلک کافی  حد تک درست کی۔۔اگرچہ ہمارے  یہ دوست کبھی کبھار شعوری طور پر تفریح طبع کے لئے ہمیں  اپنی زبان دانی سے مرعوب بھی کر تے  رہتے تھے۔۔الیاس مرحوم   اکثر انکی  ا نگر یزی ا دب  سے نا آشنا  ئی  کی کمزوری  سے خوب فائدہ  اُٹھا تے اور انھیں  ٹف  ٹائم  دیتے ہو ئے  خوب   زک کرتے  رہتے  تھے ۔۔

اس کاروائی میں میری اور ہمارے  انگلینڈ میں مقیم دوست چو دھری اافتخار کی بھر پور مدد بھی  انھیں حاصل ہو تی۔بہر حال  قابل  اور فاضل سنیرز کا کسی بھی شعبہ میں ہونا،جب وہ ما ئل بہ تعاون  بھی ہو ں کسی نعمت  غیر مترقبہ سے  کم نہیں  ہو تا۔اس حوالے سے ہم بہت   خوش بخت ٹھرے۔اس خود کفیلی اور سہولت کے سبب ہمار ا علمی گراف کافی اوپر ا ٓگیا۔۔بلکہ پریوس کے نتائج  سامنے آے تو تیس  کے  لگ بھگ طلبہ میں سے  جو پانچ طلبہ   کامیاب ٹھہرے  اُن  میں  الیاس اور  میرا نام  بھی شامل تھا۔ 

الیاس کی شخصیت کے کئی  پہلو وں تھے ۔وہ تڑاخ قسم کی گفتگو بھی کرتا۔ اُن   میں  او  اور  اوے کہنے کی صلاحیت بھی موجود تھی۔لیکن وہ من کا کھرا  اورخلوص کا حقیقی مجسمہ تھا۔اس کی حمایت اور مدد کے بھی اپنے ہیBenchmarks  تھے۔مثال کے طو ر پر جامعہ میں ایک دفعہ  ہماری تنظیم کے لئے الیکشن ہونا قرار پائے راقم السطور بھی اس میں  صدر کا امیدوار تھا۔ نظریاتی طور پر واضح فرق  اور دو الگ  الگ طلبہ تنظیموں  میں ہو نے کے  باوصف   اُ نھوں نے میری اچھی خاصی  دیدہ اور نادیدہ مہم چلائی اور کامیابی پر انتہاائی مسرت کا ا ظہاربھی کیا۔

وہ بہت نڈر تھے۔۔ظاہراً  ممولے کا سرا پا  اور ہم جماعتوں میں pigmy   کا لقب پا  ئے۔ مگر  ا ن کا  جگر  چہتے  کا اور وار عقابی  ہوتا۔ایک دفعہ  شعبہ  انگریزی میں ایک مبا حثہ ہوا  انھوں نے مجھے حصہ لینے پر آمادہ کیا  حالا نکہ وہ خود بہت پایہ کے  debator   تھے۔ میں نے سارے دوستوں کی مدد سے خوب تیاری کی۔ جیو ری  میں ہمارے ایک ایسے اُستاد  فیصلے پر مامورتھے۔جو مبینہ طور پر male طلبہ سے بیزار رہتے تھے۔اُنھوں  نے ہماری   عمدہ   presentation

male طلبہ سے بیزار رہتے تھے۔اُنھوں  نے ہماری   عمدہ   presentation کے باو جود  طالبہ کے حق میں فیصلہ صادر کر دیا۔۔ الیاس  کو یہ جانبداری سخت بار گراں گزری۔وہ اُن  پرو فیسر صاحب  سے وضاحت  لینے کے لیے مصر تھے جو بہت ہی مشکل اور بے نیازانہ افتاد رکھتے تھے۔۔۔ اور کسی  طر ح کی بے تکلفی اور سوالات کو سننے  کے روادار نہ تھے۔سو ہم سب  کی یہی   متفقہ رائے بنی کے اس معاملہ رہنے دیا جائے۔۔۔مگر اپنی ہٹ کے پکے  بے ساختگی  کے پر تو  الیاس  مرحوم ہمیں  ان کے دفتر لے گیے۔انھوں نے  جاتے ہی کچھ ایسے بے تکلفانہ  اور بے باکانہ انداز سے  وضاحت ظلب کی کہ اُن  استاد محترم  کی ہوا ئیں اڑ گئی۔۔اور وہ  آئیں، بائیں  شائیں کر نے لگے۔۔اسی  طر ح ایک دفعہ ہم کسی دفتر میں اپنے کسی عزیز  کی فائل کا پتا کر نے  گیے  جو مٹھی گرم نہ کر نے یا  سرخ فیتے کی  وجہ سے عر صہ دراز سے التوا کا شکا ر  تھی۔ایک  جسیم کلرک کچھ معاندانہ بلکہ جارانہ  انداز سے  پیش  آیا۔۔تکرار کی آواز سن کے وہ بھی  اندرآگیے۔۔اپنے مخصوص  تیز طرار   لہجہ میں بات کرتے کرتے  نتایج سے بے خبر   چڑیا  جیسی  طاقت رکھنے وا لا یہ    ببر شیر اُس پر کلرک پر  یکلخت جھپٹ پڑا اور ایک ہی  ہلے  میں کافی ٹھکائی کر دی۔شور و غوغا،جوابی  بھر پور وار اور مزید کمک پہنچنے  کے  خطرہ  کے سبب مجھے خود ہی بیچ  بیچاو  کرانا پڑا  اور میں انھیں  بہ حفاظت  وہا ں سے نکال کر لے جانے  میں کا میاب ہوا۔۔ یو ں مد توں  وہ اس واقعہ کو یاد کرتے ریتے اور مجھ ضحف  دیکھانے  کے سبب  کڑوے کسیلے جملے سناتے  رہتے ۔۔مگر ساتھ ہی میری  دور بینی کی داد بھی دیتے رہتے ۔۔   ایسی  جرات رندانہ  صرف ان کی شخصیت کا خاصہ تھی۔اسی سبب وہ آگے چل کر ایک  وزیر اعظم کو غیر ضروری پرو ٹو کول نہ دینے کی  وجہ سے کچھہ عر صہ زیر عتاب بھی رہے۔

ٓاُن کے اندر زیرکی اور عام فہمیت  بھی  کمال کی تھی۔۔جامعہ میں قیام کے دوران  حکومت کی  طرف سے ایک  سکالر شپ ملتا تھا جسے دوست مسلم سکالر شپ  کہتے تھے جس سے   ہو سٹلوں میں مقیم سارے طلبہ  یکساں   مستفید  ہو تے تھے۔یہ صرف دو سال کے لئے میسر ہو تا تھا۔ہمارا  سیشن  سیلاب  اور بارشوں کی وجہ سے کچھ ماہ  بڑھ گیا۔ہم نے پانچ ماہ کے مزید اضافی بل تیار کر وائے  مگر اسے سیکریٹر ی  اوقاف نے مسترد کر دیا گیا۔ایک دن وہ ہمیں لے کراُسی سیکر یٹری کے پاس گئے  اور کنے لگے دیکھتے ہیں  کیسے وہ  یہ کام نہیں کر  تے ہیں۔سیکر یٹر ی   مو صوف  کے سامنے ہم نے  فائل رکھی تو انھوں نے انگر یزی میں پیلے سے تیار کی ہو ئی چھو ٹی  سی تقریر کر ڈٓالی۔۔جو دلا ئل سے بھر پور تھی۔

انگر یزی سے  عار رکھنے والے یا کم آشنا   یہ  آفیسر   موصوف ا ُن کی روانی، عمدہ  لہجہ سے آراستہ  گو یا ئی  کی تاب نہ لاسکے۔۔اور اُنھوں نے ساری فائلوں پر  پلک جھپکتے  ہی          مذید کچھ  فرمائے  دسخط کر ڈالے۔۔ہم چیکس لے کر باہر نکلے تو ہماری ہنسی ہی بند نہیں ہو رہی تھی۔کہنے لگے   یہ زبان صرف کاغذ کے  ٹکڑے کے  حصول کے لیے نہیں  پڑھی۔ہمارے معاشرے میں کامیابی کے لئے  یہ بہت ہی کامیاب اور تیر  بہدف  آلہ ہے۔ بہر حال ہم نے  اس واقعہ کے بعد انھیں مکمل طور پر اپنا مر شد مان لیا اور ا اُن کی اس نصحیت کو بھی کس کر اپنے  پلے سے باند ھ لیا۔۔

 ان کی زندگی کی ایک  بڑی خوبی  ان کی بے ساختگی اور بے تکلفی تھی۔ان سے تعلق کے سارے عر صے میں ایک ہی دفعہ ان کو تکلف کرتے پایا۔۔وہ  بھی ان کی میری شادی میں بن بلا ئے آمد کے موقع پر۔۔ در اصل، میں نے اپنی   اس تقریب  سعیدمیں کسی دوست یا اپنے ادارے  کے کسی رفیق کار کو  مدعو  کیا ۔۔نہ کسی کو اطلاع ہو نے دی۔اُس دن    ڈراینگ  روم   سے کسی  خاص ممان  کے آنے کا پتا  چلا  تو میں فورا ًوہاں آیا۔الیاس کو سامنے پاکر ا یک لمحہ کے لئے کافی خلجان اور ندامت سی ہوئی۔میر ے  معذرت خواہانہ روایہ  اور اندازکو  بھا نپتے ہوے انھوں نے ایسا بر جستہ چٹکلہ داغا  کہ سب حا ضر ین کے قہقے چھوٹ گیے اور محفل زاعفران زار ہو گئی۔

خاطر مدارت کے بعد میں انھیں  کچھ  دور تک الوداع  کرنے  گیا تو دفعتاً انھوں نے اپنی جیب سے ایک لفافہ نکالا اور گویا ہوے:  تیر ی اوقا ت اتنی نہ تھی پر رکھ لو۔وہ تھے تو دریا دل مگر لفافہ کا تکلف کرنا میرے  گمان میں دوستوں کے باب میں ان کی روایتی  بے ساختگی اور برجستگی سے میل  نہیں رکھتا تھا۔دلچسپ امر یہ تھا  اپنے تمام   دو ستوں  اورہم مکتبوں کو  مدعو نہ کر ے کے عمل کو انھوں   نے میری بساط کی تنگی سے محمول کیا  اور اس کا بہت خوش گواراثر ہوا۔ کیونکہ   بدوں  اطلاع  اور  نامدعو  دوستوں سے  کو ئی  در جن بھر لفا فے    چند دنوں میں وصول  ہو چکے  تھے۔۔۔جن میں سعودی عرب کے  ایک کالج میں  معمور  جامعہ کے دنوں کے ایک  پرانے  ہم مکتب کا لفافہ بہت ہی بھاری تھا۔ قصہ کوتاہ یہ کہ اس  windfallسے  میری شادی کے نصف سے زیادہ   اخراجات  پورے  ہو گئے۔

الیاس  بہت ambitious تھے  بقو ل  حالی:

ہے جستجو کہ  خوب سے خوب تر ہے کہاں

وہ دوران طالبعلمی ہی جیل سپرٹیند نٹ بھر تی ہو ئے۔مگر پھر ا ستعفی دیکر  آگئے۔ماسٹر کر نے کے بعد وہ  کچھ عر صہ   عمربو ائز   ہائی  سکول راولا کوٹ میں تدریس  کے فرائض بھی انجام دیتے ر ہے۔۔بعد میں  ہم دونو ں پبلک سروس کا امتحان پاس کر کے  سبجکٹ سپشلیسٹ  بن گئے۔ پھر میں نے لیکچرر کے لیے کوا لیفائی کیا  مگروہ  اس امتحا ن میں شر یک نہ ہوے۔

ان کی نظر انتظامی پوسٹوں پر تھی۔کمانڈ کرنا،کروفر سے رہنا ا اُن  کی فطرت میں تھا۔۔جامعہ میں اپنے مستقبل کے کیر یر کا  جووہ دلربا نقشہ کھنچتے  اُس میں تد ریس کے لیے کو ئی جگہ نہ  تھی۔۔ سبجکٹ سپیشلسٹ  سے ایک  دفعہ پھر اُن کا دل بھرا تو وہ   ایک اور مقابلے کا امتحان پاس کر کے لیکچرربن گیے۔پھر حسن اتفاق یہ ہوا کہ  سد ھنوتی کے کوٹے پر ڈی ایس پی کی  ایک آسامی مشتہر ہوئی۔  ایک دفعہ پھروہ  پبلک سر وس کمیشن کے اامتحا ں میں شر یک ہو ئے  اور  کافی امیدواروں کو مات دے کر  ڈی ایس پی  کادل پسند   عہدہ  حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیے۔پھر بہت جلدی جلدی ترقی پاتے پاتے وہ ڈی آئی جی کے اعلی عہدے پر پہنچے۔

  فطری طور پر ہر فرد  تضادات اور اضداد کا مجموعہ ہوتا ہے ۔ الیاس بھی ان معائب اور اضداد سے مستثنی  نہ تھے۔۔

شخصیات کامطالعہ کرنے والے فر ماتے ہیں  کہ  فرد کی کجیوں،کمیوں  کو  اگنور کر دیں ۔۔اسکی جزئیات پر تو جہ نہ دیں بس دیکھیں  کہ مجموعی ذا  ئقہ  کیسا ہے۔ خُو شبو کیسی ہے۔۔۔الیاس کا مجموعی ذائقہ،اس کی خوش بو،اسکی   چھب، اس کا لشکارہ اور اس کا اندازوکھرا   اور سب سے منفردتھا۔۔جس نے بھی اس کے ساتھ اچھا برا وقت گزارہ ہو وہ  اُسے بھو لا نہیں سکتا۔۔کیوں کہ وہ بھولنے والی چیز نہیں تھی۔!۱۔ پو لیس کے محکمہ میں جا نے کے بعد وہ کتنا بدلہ۔۔کتنا  منضبط ہوا  اس کے شب روز میں کیا بدلا و آیا؟؟ اپنی سروس اور حیات کے  دیگر  بکھیڑوں   کے سبب زیادہ معلو م  نہیں  ہے۔

 بس زرا سا معلوم ہے کہ  جا معہ میں  ایک سگر ییٹ نہ پینے والا ہمارا  یہ  ہم مکتب  تمباکو کا بہت رسیا ہو گیا تھا۔۔کچھ حد سے ہی زیادہ۔۔کبھی کھبارکسی تہوار یا ماتم پر مختصر سی ملاقات ہو جاتی  تو میں اُن کو  اس طرف تو جہ دلائے  بغیر نہ رہ سکتا۔۔ مگر وہ سنی ان سنی کر د یتے۔۔آخری   بالمشافہ ملاقا ت  بن  جو نسہ میں ہو ئی  جہاا ں اُن کا سسرال ہے۔۔تب  وہ  ایک  ماتم  پہ  آے تھے۔۔میں نے کہا ماشا اللہ بلکل  فٹ ٖفاٹ اور ویسے ہی ہیں۔۔انھو ں نے پہلے تو کہا کہ ہا ں فیٹنس کیسے نہ ہو  میں اپنا بہت خیال  رکھتا ہوں۔۔مگر روایتی  رگ ظرافت  پھر پھٹک  پڑی۔اور فتینس کے چند منفرد  اشا رات  کے ساتھ اس اصطلاح کی  ایک نئی دلچسپ  تعریف بیان کر ڈالی جس کا   جمہو ر اطباء  کے مباحث  میں کوئی زکر مو جود نہیں۔ آج بھی فتنس کی اُن کی بیان کردہ یہ نئی شرع جب زہن میں  آتی ہے  تو ہنسی  چھو ٹ جا تی ہے۔

انھیں مر حوم  لکھتے ہو ئے کلیجہ منہ کو آتا ہے اور دل بہت ہی رنجیدہ ہو جاتاہے۔ وہ بس اس قول کے مصداق تھا: وہ آیا اُس نے دیکھا اور وہ  چھا گیا۔ وہ ہمیشہ آگے رہنے کا دھنی تھا۔وہ ہمیشہ ہم سے آگے رہا۔ زہانت میں،مطالعہ میں،جاہ و حشمت  میں،سما جی تعلقات میں  بلکہ ہر چیز میں۔۔۔بھلا حیات و ممات کے معر کہ میں وہ ہم سے کیسے پیچھے رہ سکتا تھا۔۔وہ جلدی جلدی کام کرنے  اور اپنے  ہدف  کو  سرعت سے مکمل  کرنے کا عادی  تھا۔۔وہ عدم کی طر ف بھی اچانک  اور تیزی سے چل نکلا۔۔بنا کیسی کو اطلاع دیے  بنا   کچھ   کہے۔۔۔۔۱

ڈھو نڈو گے  اگر ملکوں ملکوں،ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

تعبیر ہے جس کی حسرت و غم،اے ہم  نفسو،وہ خواب ہیں ہم۔

الللہ تعالی انھیں اپنے خصو صی  جوار ر حمت میں جگہ دیں اور  آخرت کی ساری منزلیں آساں کر یں.آمین۔